آپ کا سلاماردو نظماسماء بتولشعر و شاعری

احساس

ایک اردو نظم از اسماء بتول

بہت دیر سے ہوا ہے
یہ احساس
کہ اسے تو
احساس ہی نہیں
عمر بھر کا ہے
جس کا ساتھ
ساتھ تو ہے
مگر پاس نہیں
جانے کیا ڈھونڈتاپھرتا ہے
دنیا کے ریگزاروں میں
سنگ تراش تو ہے
گوہر شناس نہیں
ہیں جو ہمارے تمدن کی
درخشاں مثالیں
رنگ اُس میں وہ نہیں
وہ بو باس نہیں
لوٹے گا کبھی وہ
مان کر اپنی خطائیں
سوچتی تو ہوں
مگر ایسی کوئی امید
کوئی آس نہیں
فرمایا میرے *مالک* نے
ہیں دونوں
اک دوسرے کا لباس
میں اس کا لباس ہوں
وہ میرا لباس نہیں

اسماء. بتول

post bar salamurdu

اسماء بتول

نام ۔۔۔۔ اسماء بتول تاریخ پیدائش ۔۔۔ 20 جون 1976ء جائے پیدائش ۔۔ سیالکوٹ رہائش ۔۔۔۔ سیالکوٹ 19 سال سے درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوں۔۔۔ آرمی پبلک اسکول سیالکوٹ میں اردو معلمہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہوں۔۔۔ حساس طبیعت ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی اپنے احساسات و جذبات کو اشعار اور نظم کی صورت میں صفحہء قرطاس پر منتقل کر دیتی ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button