آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرحانہ عنبر

کر کے رہوں گی خیر کی تدبیر دیکھنا

فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل

کر کے رہوں گی خیر کی تدبیر دیکھنا
توڑوں گی اپنے پاؤں کی زنجیر دیکھنا

قائل کروں گی اپنے عدو کو یوں پیار سے
پھینکے گا اپنے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا

اب خواب دیکھنے پہ مجھے اختیار ہے
خود ہی لکھوں گی خواب کی تعبیر دیکھنا

اک سمت سے گلاب ہیں بھیجے گئے مجھے
آئیں گے چار سمت سے اب تیر دیکھنا

قدغن لگائے لاکھ زمانہ تو فکر کیا
بولے گی میرے ہاتھ کی تحریر دیکھنا

خاموش ہوں گے جب در و دیوار ہجر میں
باتیں کرے گی مجھ سے یہ تصویر دیکھنا

عنبر مری پکار پہ آنا ضرور تم
کرنا نہ ایک پل کی بھی تاخیر دیکھنا

فرحانہ عنبر

post bar salamurdu

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button