آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرحانہ عنبر
کر کے رہوں گی خیر کی تدبیر دیکھنا
فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل
کر کے رہوں گی خیر کی تدبیر دیکھنا
توڑوں گی اپنے پاؤں کی زنجیر دیکھنا
قائل کروں گی اپنے عدو کو یوں پیار سے
پھینکے گا اپنے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا
اب خواب دیکھنے پہ مجھے اختیار ہے
خود ہی لکھوں گی خواب کی تعبیر دیکھنا
اک سمت سے گلاب ہیں بھیجے گئے مجھے
آئیں گے چار سمت سے اب تیر دیکھنا
قدغن لگائے لاکھ زمانہ تو فکر کیا
بولے گی میرے ہاتھ کی تحریر دیکھنا
خاموش ہوں گے جب در و دیوار ہجر میں
باتیں کرے گی مجھ سے یہ تصویر دیکھنا
عنبر مری پکار پہ آنا ضرور تم
کرنا نہ ایک پل کی بھی تاخیر دیکھنا
فرحانہ عنبر








