Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
یہ حقیقت تھی کہ میرے
مجھے خبر ہے کہ پلکیں
محبتوں کے تعلق میں
دل کے جذبات کو سستا
ہوا کے دوش پہ بادل بنا کے
تجھے حلال ہے مجھ پر
یہ دکھاوے کی ندامت
پھرتے ہو جو تنہا تنہا
جنرل عاصم ملک
سلام اردو مشاعرہ سیالکوٹ 2025
وطن کی مٹی گواہ رہنا
قرۃ العین حیدر
مجاہد مشتاق احمد خان کی رہائی
دل میں رکھا ہے کتنے چاؤ سے
سرد ہوا سی کیوں ہے
بلوچستان کی آزمائش
آن لائن شاپنگ کی دراز رسی
دن رات بنائیں لفظوں سے
کتنے خدشوں نے سر نکالے تھے
لگ رہی ہے کچھ گلابی شام سی
کیا بھلا ہے کیا برا
وحشتوں کا نصاب تھوڑی ہے
پہلے پہلے کب بدلا تھا
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
علم سے آگہی سے ڈرتے ہیں
محبتوں کی سفیر آنکھیں
تاج نے تخت نے بغاوت کی
کر کے رہوں گی خیر کی تدبیر دیکھنا
حوصلہ ہے نڈھال مفلس کا
قسم سے کتنا ڈری ہوئی تھی
ڈھونڈنے نت نئے نگر مجھ میں
گل سے گلزار ہو بھی سکتی تھی
شاید سمجھ رہے ہیں ہمارا خدا نہیں
کچھ پیلے کچھ کالے بچھو
ہو کے رنجور بہت دور تلک
محبت رفتہ رفتہ مر رہی ہے
کرتے ہیں گزر مثل قمر
فریاد بن گئے کبھی خاموش رہ گئے
خاموشیوں کے بانے مجھے
دل کا لہو چراغ وفا میں جلائیے
تری حمد مولا کروں رات دن
احتجاج کی پیچیدگی اور شہری تحفظ کا چیلنج
آخری مورچہ، اولین عزم
میجر سبطین حیدر
آنسو ہیں اور دیدہ خونبار دوستو
یہ رنگ و نغمہ یہ خوشبو
زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے
اس کی ادا ادا میں جو سامان برق تھا
غم محرومئ جاوید کہاں باقی ہے
ہوا کے دوش پہ خوابوں کا در کُھلا رکھنا
گلہ ہے وقت سے، اندازِ بے وفائی کا
خمارِ عشق نے دل کو بھی مبتلا ہے کیا
سچ کی جیت
زاہم : خواب دیکھنے والی سندھ کی بیٹی
دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا
عطا ہو پھر سے نیا بابِ ارتقا، یا رب
قصیدہ شریف
ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے
میں تری ضد تری اوقات سے آزاد ہوئی
تھک ہار کے بیٹھی ہوں
مشکل اک اک گام ہوا ہے
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
ذکرِ زینبؑ میں ملا سوز و نوا، وہ باوفا
سلام شہداۓ کربلا
قابل نہیں سمجھتے جنھیں
ثوبیہ راجپوت
میں مکدی گل مکا دتی
وقت کسے لئی رکدا نئیں
بوہے باریاں ٹوہ بیٹھی آں
دل نوں وڈا کر نئیں جاندی
<<
1
...
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
...
140
>>