آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ راجپوتشعر و شاعری
میں تری ضد تری اوقات سے آزاد ہوئی
ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
میں تری ضد تری اوقات سے آزاد ہوئی
میں تری ذات کی ظلمات سے آزاد ہوئی
میں نے سوچوں کو دیا رنگ نیا، ڈھنگ نیا
میں پرستش کی روایات سے آزاد ہوئی
اب مرے فیصلے خود میرے ارادے ٹھہرے
میں ترے فرض کی خیرات سے آزاد ہوئی
میری تحریر میں ہوتے ہیں بغاوت کے رنگ
سو میں خاموش شکایات سے آزاد ہوئی
میرے اندر کا الاؤ ہے ابھی تک روشن
میں تری سرد بشارات سے آزاد ہوئی
میں نے اندیشوں کی زنجیر کو توڑا آخر
میں ترے وہم کے اثبات سے آزاد ہوئی
میں نے آئین میں خود اپنی جگہ پیدا کی
میں ترے حکم کی آیات سے آزاد ہوئی
ثوبی! اب ہجر کو آسان بنایا میں نے
میں ترے حرف و حکایات سے آزاد ہوئی
ثوبیہ راجپوت








