آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ راجپوتشعر و شاعری

میں تری ضد تری اوقات سے آزاد ہوئی

ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل

میں تری ضد تری اوقات سے آزاد ہوئی
میں تری ذات کی ظلمات سے آزاد ہوئی

میں نے سوچوں کو دیا رنگ نیا، ڈھنگ نیا
میں پرستش کی روایات سے آزاد ہوئی

اب مرے فیصلے خود میرے ارادے ٹھہرے
میں ترے فرض کی خیرات سے آزاد ہوئی

میری تحریر میں ہوتے ہیں بغاوت کے رنگ
سو میں خاموش شکایات سے آزاد ہوئی

میرے اندر کا الاؤ ہے ابھی تک روشن
میں تری سرد بشارات سے آزاد ہوئی

میں نے اندیشوں کی زنجیر کو توڑا آخر
میں ترے وہم کے اثبات سے آزاد ہوئی

میں نے آئین میں خود اپنی جگہ پیدا کی
میں ترے حکم کی آیات سے آزاد ہوئی

ثوبی! اب ہجر کو آسان بنایا میں نے
میں ترے حرف و حکایات سے آزاد ہوئی

ثوبیہ راجپوت

post bar salamurdu

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔ ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب" شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔ معاون ایڈیٹر: برج میڈیا یو ایس اے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button