آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ راجپوتشعر و شاعری

ہوا کے دوش پہ خوابوں کا در کُھلا رکھنا

ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل

ہوا کے دوش پہ خوابوں کا در کُھلا رکھنا
وفا کے نام کا جذبوں میں حوصلہ رکھنا

اگر وہ پوچھ لیں دل کی کہانی، پل بھر کو
تو اپنی آنکھ میں چاہت کا آئینہ رکھنا

گواہ بن کے کھڑے ہیں وفا کے سارے اصول
سو اپنی بات میں ایک اس کا تذکرہ رکھنا

وہی ہیں دستِ رفاقت، وہی ہیں خنجر بھی
سو ہر نظر میں پرکھنے کا زاویہ رکھنا

گواہ ظلم و ستم کے ہزاروں ہوں گے مگر
نداۓ حق کو تو لب پر یونہی سجا رکھنا

ستم کے سامنے جھکنا ہمارا شیوہ نہیں
تو اپنے سامنے قصّہ ء کربلا رکھنا

عذاب وقت کے صحراؤں میں بھٹکتے ہیں
سو اپنے پاؤں تلے روشنی چھپا رکھنا

محبتوں کے سفر میں شکست مل بھی گئی
تو اپنے لب پہ تبسم کا سلسلہ رکھنا

کبھی نہ بیچنا خوابوں کی آبرو ثوبی
کہ ان کے بدلے فقط خاک کا صلہ رکھنا

ثوبیہ راجپوت

post bar salamurdu

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔ ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب" شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔ معاون ایڈیٹر: برج میڈیا یو ایس اے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button