برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا
شاہد نسیم چوہدری کا ایک اردو کالم

برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا – پاکستانی موقف کی تائید ہے
دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے محض وقتی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دیتے ہیں۔
برطانیہ کی جانب سے حالیہ فیصلہ کہ فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست تسلیم کیا جائا، ایسا ہی ایک فیصلہ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عالمی سفارتکاری اور بالخصوص اسرائیل کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر دیے ہیں۔
پاکستان کی ریاست اور عوام ہمیشہ فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا دیرینہ مؤقف درست اور اصولی تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ نہ صرف عالمی انصاف کی جیت ہے بلکہ مظلوم فلسطینیوں کے خون کی پکار کا جواب بھی ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کا جائز اور بنیادی حق دلایا جائے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔
تاریخی پس منظر۔یہ تاریخ کا کتنا ہی بڑا تضاد ہے کہ فلسطین کے مسئلے کی جڑ بھی برطانیہ ہی کی پالیسیوں میں پیوست ہے۔ 1917ء کا ’’اعلان بالفور‘‘، جس کے ذریعے برطانیہ نے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کی، آج بھی عرب دنیا کے زخموں کو ہرا کرتا ہے۔ اسی اعلان نے وہ بنیاد رکھی جس پر 1948ء میں اسرائیل وجود میں آیا اور لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔گزشتہ ایک صدی سے فلسطینی عوام جدوجہد، قربانیوں اور مشکلات کے باوجود اپنی سرزمین اور اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔
موجودہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟۔برطانیہ اب اس تاریخ کے بوجھ کو کسی حد تک ہلکا کرنے جا رہا ہے۔ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل کے یکطرفہ مؤقف کو رد کر رہا ہے
بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ’’دو ریاستی حل‘‘ کو واحد راستہ تسلیم کر رہا ہے۔
یہ فیصلہ محض علامتی نہیں بلکہ عملی سفارتکاری میں ایک بڑا قدم ہے۔ کیونکہ برطانیہ، یورپی یونین کا ایک اہم ملک، سلامتی کونسل کا مستقل رکن، اور عالمی سیاست میں مرکزی کردار رکھتا ہے۔ اس کا فیصلہ باقی مغربی ممالک پر بھی اثر انداز ہوگا۔عالمی برادری پر اثرات۔فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد پہلے ہی 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔ لیکن مغرب میں اس حوالے سے بڑی ہچکچاہٹ رہی ہے۔ اب برطانیہ کا یہ فیصلہ یورپ میں ایک نئی لہر پیدا کرسکتا ہے۔ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے جیسے ممالک پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ توقع ہے کہ فرانس، بیلجیئم اور دیگر یورپی ریاستیں بھی جلد اس صف میں شامل ہو جائیں گی۔
یہ تبدیلی اس وقت سامنے آ رہی ہے جب غزہ میں اسرائیلی بربریت اور نہتے شہریوں کا قتلِ عام عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ عوامی دباؤ، انسانی حقوق کی آوازیں، اور مسلسل بڑھتا ہوا احتجاج مغربی حکومتوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات کے بجائے انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں۔اسرائیل پر دباؤ۔اس فیصلے سے اسرائیل شدید سفارتی دباؤ میں آ جائے گا۔ برسوں سے وہ فلسطین کی ریاستی حیثیت کو تسلیم نہ کرانے کے لیے عالمی سطح پر لابنگ کرتا رہا۔ لیکن اب جب ایک بڑا ملک فلسطین کو تسلیم کر رہا ہے تو اسرائیل کی پوزیشن کمزور ہوگی۔یہ فیصلہ اسرائیل کے ان دعوؤں کی نفی بھی ہے کہ فلسطینی عوام محض ’’آبادی‘‘ ہیں، ریاستی تشخص نہیں رکھتے۔ برطانیہ نے یہ مان لیا ہے کہ فلسطینیوں کا وجود ایک قوم کی حیثیت سے مسلمہ حقیقت ہے، جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔مسلم دنیا کا ردِعمل۔مسلم دنیا اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہی ہے۔ سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے بیانات میں اس اقدام کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک حوصلہ افزا خبر ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ سے فلسطینی عوام کی حمایت پر مبنی رہی ہے۔ برطانیہ کے اس اقدام سے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید تقویت ملی ہے۔
پاکستان کا مؤقف۔پاکستان کی پارلیمنٹ، حکومت اور عوام ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ برطانیہ کا فیصلہ پاکستان کے اس مؤقف کی تائید ہے جو عشروں سے ہم عالمی فورمز پر دہراتے رہے ہیں کہ ’’فلسطینی عوام کو ان کا حق دیا جائے اور انہیں ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے‘‘۔پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ سفارتی لائحہ عمل بنائے تاکہ اقوامِ متحدہ میں بھی اس فیصلے کے اثرات مرتب ہوں۔یورپ کی بدلتی سوچ ۔یہ فیصلہ محض فلسطین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یورپ کی عمومی پالیسیوں میں بھی تبدیلی لائے گا۔ اسرائیل کو اب یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ طاقت کے زور پر زمین ہتھیانا اور انسانی حقوق کی پامالی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔برطانیہ میں ہونے والے عوامی مظاہرے، یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں تحریکیں، اور میڈیا کا بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کی علامت ہیں کہ عوامی رائے
حکومتوں کو اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کر رہی ہے۔امریکہ کا کردار۔اب سب کی نظریں امریکہ پر ہیں۔ اگرچہ امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کی حمایت کی ہے، لیکن داخلی سطح پر وہاں بھی فلسطین کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ نوجوان امریکی، تعلیمی ادارے، حتیٰ کہ کانگریس کے کچھ اراکین بھی اب کھل کر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے اس فیصلے کے بعد امریکہ پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر زیادہ متوازن مؤقف اپنائے۔فلسطینی عوام کے لیے پیغام ۔فلسطینی عوام کے لیے یہ فیصلہ ایک امید کی کرن ہے۔ دہائیوں کی جدوجہد، قربانیاں اور بے شمار شہادتیں آخرکار عالمی سطح پر رنگ لا رہی ہیں۔ یہ فیصلہ ایک اخلاقی فتح ہے جو فلسطینی عوام کے حوصلے کو مزید بلند کرے گا۔
یہ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ظلم اور جبر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، بالآخر انصاف کی جیت ہوتی ہے۔
مستقبل کی راہ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ برطانیہ کے اس فیصلے کو عملی اقدامات میں ڈھالا جائے۔ محض تسلیم کر لینا کافی نہیں، بلکہ فلسطین کو مکمل ریاستی اختیارات دلوانے کے لیے عالمی سطح پر مزید دباؤ بڑھایا جائے۔
سلامتی کونسل میں قراردادیں پیش کی جائیں، اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ مقبوضہ علاقوں سے فوجیں واپس بلائے، اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی منصوبہ بنایا جائے۔
برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا یقیناً تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ عالمی ضمیر کی جاگتی ہوئی حالت کا ثبوت ہے اور فلسطینی عوام کے دیرینہ خواب کی تعبیر کی طرف ایک قدم ہے۔
اگر عالمی برادری نے متحد ہو کر دو ریاستی حل کو عملی شکل دے دی، تو مشرقِ وسطیٰ میں نہ صرف امن قائم ہوگا بلکہ دنیا ایک بڑے انسانی المیے سے بھی نجات پا سکے گی۔پاکستان اس عزم کو دہراتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام تک اپنی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ برطانیہ کا فیصلہ امید کی نئی کرن ہے، مگر اصل منزل تب ملے گی جب دنیا متحد ہو کر فلسطین کو مکمل ریاستی آزادی دلائے گی۔
شاہد نسیم چوہدری






