ذہنی صحت کی بگڑتی ہوئی تصویر
منیب الرحمن عارفی کی ایک اردو تحریر
ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی پُرسکون ہو، ہمارے گھر خوشحال ہوں اور ہمارے بچے ذہنی طور پر مضبوط بنیں۔ ہم اچھی تعلیم، بہتر روزگار اور آرام دہ ماحول کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ مگر اکثر ہم اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ذہنی سکون کے بغیر یہ سب سہولتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اگر ذہن ہی مسلسل دباؤ، اضطراب اور بے چینی کا شکار رہے تو ترقی کی رفتار بھی بے برکت محسوس ہونے لگتی ہے۔
آج کا انسان پہلے سے زیادہ مصروف ہے مگر پہلے سے زیادہ مطمئن نہیں۔ صبح سے شام تک کی دوڑ، مستقبل کی فکر، معاشی دباؤ اور سماجی توقعات ذہن پر بوجھ ڈالتی رہتی ہیں۔ یہ بوجھ آہستہ آہستہ عادت بن جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معمول کی تھکن ہے، مگر درحقیقت یہ ذہنی صحت کی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے۔ جب انسان کو معمولی بات پر غصہ آنے لگے، چھوٹی ناکامی ناقابل برداشت محسوس ہو اور دل ہر وقت بے چین رہے تو یہ اشارہ ہے کہ اندر کچھ درست نہیں۔
ذہنی صحت کا تعلق صرف شدید نفسیاتی بیماریوں سے نہیں۔ یہ اس بات سے جڑی ہے کہ ہم اپنے جذبات کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔ اگر غصہ ہمیں کنٹرول کرنے لگے، اگر مایوسی امید پر غالب آ جائے اور اگر خوف ہمارے فیصلوں پر حاوی ہو جائے تو زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیقات بار بار اس بات پر زور دیتی ہیں کہ جذباتی نظم و ضبط، خود آگاہی اور مثبت طرزِ فکر ذہنی استحکام کے بنیادی ستون ہیں۔ مگر افسوس کہ ہم اپنے بچوں کو یہ مہارتیں سکھانے کے بجائے صرف ظاہری کامیابی کے پیمانے تھما دیتے ہیں۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے صبری اس بحران کی واضح علامت ہے۔ معمولی اختلاف تکرار میں بدل جاتا ہے، سادہ گفتگو تلخی اختیار کر لیتی ہے اور برداشت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ غیر حقیقی توقعات ہیں۔ ہم خود سے بھی غیر معمولی کارکردگی چاہتے ہیں اور دوسروں سے بھی۔ جب نتائج توقعات کے مطابق نہ ہوں تو مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہی مایوسی اگر مسلسل رہے تو ذہنی دباؤ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ڈیجیٹل دور نے اس دباؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی کامیابیاں دیکھ کر انسان اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ مسلسل تقابل ذہن کو بے چین رکھتا ہے۔ انسان یہ بھول جاتا ہے کہ ہر چمکتی تصویر کے پیچھے جدوجہد اور ناکامیوں کی ایک طویل کہانی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال نیند، توجہ اور جذباتی توازن کو متاثر کرتا ہے۔ جب ذہن کو آرام نہ ملے تو وہ تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔
گھروں میں مکالمے کی کمی بھی ذہنی مسائل کو بڑھا رہی ہے۔ والدین اکثر بچوں کی بات سنے بغیر فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ ڈانٹ ڈپٹ وقتی خاموشی تو پیدا کر دیتی ہے مگر اندرونی بے چینی کو بڑھا دیتی ہے۔ اگر بچہ اپنی پریشانی بیان نہ کر سکے تو وہ تنہائی محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی تنہائی آگے چل کر اضطراب اور مایوسی کا سبب بن سکتی ہے۔ بچوں کو ضرورت تنقید کی نہیں بلکہ رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ہوتی ہے۔
تعلیمی اداروں میں بھی صورت حال مختلف نہیں۔ امتحانات کا دباؤ، مقابلہ بازی اور کارکردگی کی دوڑ طلبہ کو ذہنی طور پر تھکا دیتی ہے۔ اگر نصاب میں جذباتی تربیت شامل نہ ہو اور اگر اساتذہ صرف نتائج پر توجہ دیں تو طلبہ اندر سے کمزور ہو سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لیں، کونسلنگ کی سہولت فراہم کریں اور طلبہ کو یہ سکھائیں کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے۔
سماجی سطح پر ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ نفسیاتی مدد لینا کمزوری کی علامت ہے۔ جب جسم بیمار ہو تو ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، مگر جب ذہن تھک جائے تو ہم خاموش رہتے ہیں۔ یہ خاموشی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آگاہی کو فروغ دیا جائے، مثبت گفتگو کو عام کیا جائے اور ایک ایسا ماحول بنایا جائے جہاں ہر شخص بلا خوف اپنی کیفیت بیان کر سکے۔
حکومتی سطح پر بھی ذہنی صحت کو بنیادی صحت کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ طبی مراکز میں ماہرِ نفسیات کی دستیابی، درست اعداد و شمار کی بنیاد پر پالیسی سازی اور صحت مند تفریحی سرگرمیوں کا فروغ اس بحران کو کم کر سکتا ہے۔ پارکس، کھیل کے میدان اور کمیونٹی مراکز ذہنی سکون کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اصل تبدیلی مگر ہمارے رویوں سے شروع ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی گفتگو میں نرمی پیدا کریں، توقعات کو متوازن بنائیں اور دوسروں کی غلطیوں کو برداشت کرنا سیکھ لیں تو بہت سا دباؤ خود بخود کم ہو سکتا ہے۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ ہر کامیابی وقت اور محنت سے ملتی ہے اور ہر ناکامی سیکھنے کا موقع ہوتی ہے۔
ذہنی صحت ایک بنیاد ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ہمیں اپنے ذہنوں کی حفاظت اسی طرح کرنی ہوگی جیسے ہم اپنے جسم کی کرتے ہیں۔ سکون، توازن اور امید ہی وہ عناصر ہیں جو فرد کو مضبوط اور معاشرے کو مستحکم بناتے ہیں۔ اگر ہم نے آج سنجیدگی اختیار کر لی تو کل کا معاشرہ زیادہ متوازن اور محفوظ ہو سکتا ہے۔








