آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرحانہ عنبر

علم سے آگہی سے ڈرتے ہیں

فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل

علم سے آگہی سے ڈرتے ہیں
لوگ کیوں روشنی سے ڈرتے ہیں

جن کو جھلسا دیا تھا سورج نے
چاند کی چاندنی سے ڈرتے ہیں

اے دغا باز کم نظر دنیا
ہم تری بے رخی سے ڈرتے ہیں

آستینیں عزیز ہیں ہم کو
اس لیے دوستی سے ڈرتے ہیں

کیا عجب دور ہے کہ بستی میں
آدمی آدمی سے ڈرتے ہیں

کھڑکیاں کھولتے نہیں دل کی
کیوں سبھی تازگی سے ڈرتے ہیں

پہلے ڈرتے تھے موت سے عنبر
لوگ اب زندگی سے ڈرتے ہیں

فرحانہ عنبر

post bar salamurdu

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button