علم سے آگہی سے ڈرتے ہیں
لوگ کیوں روشنی سے ڈرتے ہیں
جن کو جھلسا دیا تھا سورج نے
چاند کی چاندنی سے ڈرتے ہیں
اے دغا باز کم نظر دنیا
ہم تری بے رخی سے ڈرتے ہیں
آستینیں عزیز ہیں ہم کو
اس لیے دوستی سے ڈرتے ہیں
کیا عجب دور ہے کہ بستی میں
آدمی آدمی سے ڈرتے ہیں
کھڑکیاں کھولتے نہیں دل کی
کیوں سبھی تازگی سے ڈرتے ہیں
پہلے ڈرتے تھے موت سے عنبر
لوگ اب زندگی سے ڈرتے ہیں
فرحانہ عنبر








