کچھ بھی ہو پیش نظر جاتا ہوں میں
یار ہے تو حکم کر جاتا ہوں میں
مجھ کو کالی کوٹھری کی قید ہے
روشنی ہوتے ہی ڈر جاتا ہوں میں
سارا دن چلتا ہے مجھ میں اک ہجوم
شام ہوتے ہی بکھر جاتا ہوں میں
خوش مزاجی باندھ میرے زخم پر
تیرے ہوتے چشم تر جاتا ہوں میں
حادثہ ہوتے ہی گھٹتا ہے وجود
جانیے اب کس قدر جاتا ہوں میں
رنگ اکھڑے ہیں مری تصویر کے
اب کسی زنگار پر جاتا ہوں میں
سرمئی آواز آتی ہے مجھے
اور چھت پر بھاگ کر جاتا ہوں میں
رات بھر چلتی ہے اب اپنی تراش
صبح تک ملبے سے بھر جاتا ہوں میں
روز کرتا ہوں نیا کار جنوں
روز خالی ہاتھ گھر جاتا ہوں میں
آسماں سے رزق آتا ہے مجھے
بس کہیں کشکول دھر جاتا ہوں میں
تجھ کو رکنا ہے تو رک جا چھاؤں میں
میرا ہے لمبا سفر جاتا ہوں میں
کج سخن لوگوں کی عجلت دیکھیے
سر کے اوپر سے گزر جاتا ہوں میں
میں نے راشدؔ کھا لیا خوف خدا
دیکھیے بچتا ہوں مر جاتا ہوں میں
راشد امام








