آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمنزہ انور گوئیندی
ساحل ملا تو موج بلا ڈھونڈتے رہے
منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
ساحل ملا تو موج بلا ڈھونڈتے رہے
ہم عرصہ ء حیات میں کیا ڈھونڈتے رہے
گزری بہار چاک گریباں کیے ہوئے
ہم اپنے ضبط غم کا صلہ ڈھونڈتے رہے
آنکھوں میں اپنی خون تمنا لیے ہوئے
ہر نقش پا میں رنگ حنا ڈھونڈتے رہے
وارفتگی تھی خاک بسر کوئے غیر میں
اے دوست آج تیری وفا ڈھونڈتے رہے
شاید تیری نگاہ کرم ہی میں تھا نہاں
وہ قہر جس کو اہل جفا ڈھونڈتے رہے
اک جست میں جنوں کی میان حریم ناز
باب اثر کو دست دعا ڈھونڈتے رہے
منزہ انور گوئیندی








