Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
زند گی ، کیسی زندگی ہوگی
زمانہ اُس کا ہے
مچلتی ہیں تری یادیں بہاروں میں
دل کو کہیں سکوں نہیں
جون کا میں درد ہوں
کچھ حیا اور کچھ محبت
خلوت سے ہو گیا ہوں
گزر گئے پلوں کو اب
مجھ کو روکا گیا
نہ میں یوسف نہ ترے
دل تماشائی رہے اچھا ہے
جو گزر گیا وہ ملال ہے
پنہاں سے درد سے
آبلہ پائی، تھکن
سچ کہوں خواب خواب ہے دنیا
اب جو آئی ہے تو ویسے
خوشی مستقل ہے نہ غم
باعث آزار ہو جاتے ہیں لوگ
کہاں پہ بولنا ہے
آگ دل میں لگی ھے
تمہیں اظہار کی جرات نہیں ہے
جو روشن ھے
غنی الرحمان انجم
منقبت اہلِ بیتِ اطہارؑ
جو بے رخی ہوئی
یہی ہے دل کا تقاضا
دنیا کی حسرتوں کو
کون وہ گرد اڑاتا ہے
اب مرے چہرے پہ آنسو
مجھ سے جو روٹھ گئے
تمہارے ہجر کے ماتم
ﺩﻝِ ﺻﺪ ﭼﺎﮎ ﻣﯿﮟ
حمدِ باری تعالیٰ
ایسی تنہائی
وحشتیں ہیں چار سُو
جب تیرگی میں گھر سے
ہر ایک بات میں تیرا
ہونے کا احساس
وفائیں، پیار، محبت
عشق میں کچھ بھی
ہیں محوِ حیرتِ دنیا
عشق میں تخت و تاج
تمھارے عہد و پیماں
ہم خموشی کو ہاں
یہ ہرگز نہیں کہ محبت
ہے ترے عشق کے
ساغر و پیمانہ خالی
تمھارے ساتھ وہ گزرا ہوا
جہانِ عیش و طرب غلط تھا
نذرانۂِ عقیدت بحضور ﷺ
قربتوں کے فاصلے
جُگنُو
سعید سعدی – تعارف
بو الحسن شیرِ خدا مولا علی
سننے کی تجھ سے کچھ
ہر اک ادا عقل سے
یوں اپنے آپ سے بیٹھے
اب جوش بھی نہیں ہے
تجھ سے وابستہ ہر
اب سمجھ تو آئی
ہمنوا، محرمِ جاں
رو رہا ہوں میں
تمام رات مرے گھر
نہ غموں کو تازہ بنا
خدا کی قسم تم ہمیں
حاملہ خواتین اور غذائی مشکلات
سنگ مرمر کو دیکھنے کے دن
انٹرویو شہزاد نیّرؔ
جس کی محنت اس کا حاصل
سندیس
<<
1
...
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
...
140
>>