آپ کا سلاماردو تحاریرڈاکٹر نعمان رفیعصحت کے کالم

حاملہ خواتین اور غذائی مشکلات

ڈاکٹر نعمان رفیع کا ایک اردو کالم

پاکستان میں حاملہ خواتین کی صحت ایک اہم نظرانداز کیا جانے والا مسّلہ ہے دوران حمل ماں اور بچے دونوں کی صحت کا انحصار مناسب غذا پر ہوتا ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے ملک میں لاکھوں خواتین غذائی کمی کا شکار ہوتی ہیں جس کے باعث نہ صرف ماں کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ نو مولود کی صحت پر بھی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔پاکستان میں غذائی کمی کی صورت حال:عالمی ادارہ صحتWHO اور یونیسف کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں تقریبا ۵۱ فیصدحاملہ خواتین آئرن کی کمی anemia کا شکارہیں جبکہ ۳۵ فیصدخواتین میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے اس کے علاوہ زنک ،فولک ایسڈ،کیلشیم اور آیوڈین کی کمی بھی عام ہے۔نیشنل نیو ٹریشن سروے(۲۰۱۸)کے مطابق ۱۸ سے ۴۹ سال کی خواتین میں ۳.۱۴ فیصدشدید آئرن کی کمی ۷َ.۵۳ فیصد خواتین میں وٹامن اے کی کمی پائی جاتی ہے۔۶۹ فیصدخواتین میں وٹامن ڈی کی کمی ریکارڈ کی گئی ان کی بڑی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں

۱.غذائیت سے بھر پو رخوراک کی کمی

۲.غربت اور مہنگائی

۳.طبی آگاہی کی کمی

۴.روایتی سوچ اور رسومات

۵.حمل کے دوران غذائی مشوروں پر عمل نہ کرنا

۶.غیر متوازن غذامثلا صرف چائے اور بسکٹ پر گزارہ

حمل کی آخری سہ ماہی یعنی تیسری سہ ماہی(۷ تا ۹ ماہ)میں بچہ تیزی سے بڑھتا ہے اور ماں کو اضافی توانائی،پروٹین،آئرن،کیلشیم،وٹامنز اور فائبر کی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت اگر غذا کا خیال نہ رکھا جائے تو قبل از وقت پیدائش،کم وزن والا بچہ یا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

اہم غذائی اجزاء اور ان کی اہمیت درج ذیل ہے ۱.آئرن(Iron) خون بنانے میں مدد دیتا ہے آئرن کی کمی سے کمزوری،چکر آنا،قبل از وقت زچگی ہو سکتی ہے پالک ،میتھی،گوشت،کلیجی،چنے،سیب،انار میں آئرن زیادہ پایا جاتا ہے ۲.فولک ایسڈہر بچے کے دماغی اور اعصابی نظام کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے پالک، بند گوبھی،سنگترہ،لیموں ،گوشت اور آملہ میں فولک ایسڈ پایا جاتا ہے ۳.کیلشیم بچے کی ہڈیاں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے ۴.وٹامن ڈی کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور مدافعتی نظام بہتر کرتا ہے انڈے کی زردی،مچھلی،دھوپ اس کے بڑے ذرائع ہیں ۵.زنک(Zinc) انفیکشن سے بچاؤ اور خلیات کی مرمت میں مددگار ثابت ہوتا ہے گوشت،دالیں،خشک میوے،پھلیاں زنک کا بڑا ذرائع ہیں۔ ۶.پروٹین بچے کے عضلاتی ڈھانچے کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتی ہے انڈے،گوشت،دالیں،دودھ،دہی،سویا بین میں پروٹین کی مقدار وافر پائی جاتی ہے۔حاملہ خواتین کو روزانہ موسمی پھل اورسبزیاں ضرور لینی چاہییں تاکہ وٹامنز،منرلز اور فائبر کی کمی نہ ہوسب سے مفید پھل ہیں۔سیب:آئرن اور فائبرکا اچھا ذریعہ ہے۔انار:خون بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔کیلا:توانائی اور پوٹاشیم سے بھر پور ہوتا ہے۔ سنگترہ:وٹامن سی کی کمی دور کرتا ہے۔آم:وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔

پالک ،میتھی ،ساگ آئرن اور فولک ایسڈ کا خزانہ ہے یہ حمل میں مفید سبزیاں ہیں۔گاجر میں وٹامن اے جبکہ بند گوبھی، شملہ مرچ میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔صبح ناشتے میں دودھ ایک گلاس،ایک ابلا انڈہ یا آملیٹ، دو پراٹھے ،ایک پھل سیب،کیلا،سنگترہ ضرور لینا چاہیے۔دوپہر کے کھانے میں سبزی یا دال،پالک ،چنے کی دال ،گاجر،ایک چپاتی یا چاول،دہی اور سلاد کا بھی استعمال کریں۔شام میں ایک پھل یا مٹھی بھر بادام لیں۔رات کے کھانے میں ہلکی غذا جیسے سبزی یا دال روٹی اور سلاد لیں اور ایک گلاس دودھ ضرور لیں۔ضروری ہدایات،۱۔روزانہ کم از کم ۸ گلاس پانی پینا چاہیے ۲۔بازاری اور جنک فوڈ سے پرہیز کریں ۳۔متوازن غذا کو اہمیت دینی چاہیے نہ کہ زیادہ کھانے کو۔درج ذیل حکومتی اقدامات کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے ۔۱ .بنیادی صحت کے مراکز میں غذائی مشوروں کی فراہمی ، ۲.آئرن،فولک ایسڈ اور کیلشیم کی مفت فراہمی حاملہ خواتین کے لیے غذائی آگاہی مہمات۔۳.دیہی علاقوں میں تربیت یافتہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار بڑھانے میں ضروری اقدامات۔حمل کے دوران خاص طور پرتیسری سہ ماہی میں ماں کی خوراک بچے کی زندگی کی بنیاد رکھتی ہے غذائی کمی نہ صرف ماں کی صحت بگاڑتی ہے بلکہ بچے کی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے اس لیے معاشرے،خاندان اور حکومت کومل کر اس مسّلے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے صحت مند ماں صحت مند پاکستان کا مستقبل۔

ڈاکٹر نعمان رفیع

post bar salamurdu

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت ایک کالم نگار ہیں اور بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں، وہ ضلع سیالکوٹ میں بطور میڈیکل سپیشلسٹ کام کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button