اردو غزلیاتشعر و شاعریشکیب جلالی

کلیوں کو نہال کر گئے ہم

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

مانندِ صبا جدھر گئے ہم
کلیوں کو نہال کر گئے ہم
زنجیر بپا اگر گئے ہم
نغموں کی طرح بکھر گئے ہم
سورج کی کرن تھے جانے کیا تھے
ظلمت میں اتر اتر گئے ہم
جب بھی کوئی سنگِ راہ دیکھا
طوفاں کی طرح بپھر گئے ہم
چلنا تھا جہاں محال یارو
اس راہ سے بھی گزر گئے ہم
بن جائیں گی منزلیں وہیں پر
بھولے سے جہاں ٹھہر گئے ہم
ہنس ہنس کے گلے ملے قضا سے
تکمیلِ حیات کر گئے ہم

شکیب جلالی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button