خاموشی گلدان میں سجی بیٹھی ہے
خوشبو اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے
تنہائی چپ سادھے لیٹی ہے
بے قراری کمرے میں ٹہل رہی ہے
اور خالی پن
ان سب کے گرد دائرے بن رہا ہے
انہیں اک ڈوری میں باندھ رہا ہے
نجمہ منصور

خاموشی گلدان میں سجی بیٹھی ہے
خوشبو اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے
تنہائی چپ سادھے لیٹی ہے
بے قراری کمرے میں ٹہل رہی ہے
اور خالی پن
ان سب کے گرد دائرے بن رہا ہے
انہیں اک ڈوری میں باندھ رہا ہے
نجمہ منصور
