آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفوزیہ شیخ

آواز کس نے دی مجھے

فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل

آواز کس نے دی مجھے شدّت کی پیاس میں
دریا انڈیل لائی ہوں سارا گلاس میں

میں جانتی ہوں آئے گا اک روز لوٹ کر
اپنی گھٹن سے تنگ یا جینے کی آس میں ۔

اسکو بتا نہیں سکی دل کی اداسیاں
تصویر ایک بھیج دی کالے لباس میں

شادی تو ایک جسم پہ قبضے کی ہے سند
جب تک محبتیں نہ ہوں اس کی اساس میں

اولاد جیسے کتنے ہی آنگن میں پھول تھے
تم رزق ڈھونڈتے رھے گندم کپاس میں

ہر پل جوان رہتی ہیں اس کی محبتیں
لگتا ہے تیس کا مجھے ہو کر پچاس میں

بچھڑے تھے جس جگہ وہاں برسوں کھڑا رہا ۔
بدلاؤ آ سکا نہ مرے دیوداس میں۔۔

فوزیہ شیخ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button