آپ کا سلاماردو غزلیاتافضل شریف صائمشعر و شاعری

جب اکیلے میں تجھے یاد کیا کرتے ہیں

افضل شریف صائم کی ایک اردو غزل

جب اکیلے میں تجھے یاد کیا کرتے ہیں
یوں سمجھ ماس کو ناخن سے جُدا کرتے ہیں

اپنی آنکھیں میں جہاں پھوڑ کے رکھ آیا تھا
لوگ اُس دشت سے اب خواب چُنا کرتے ہیں

جن چٹانوں پہ مرے جسم کے ٹکڑے بِکھرے
اب سُنا ہے کہ وہاں پھول کھِلا کرتے ہیں

قید کر آتے ہیں زندان انا میں روحیں
اب تو ہم صرف دِکھاوے کو مِلا کرتے ہیں

ہر کسی کو کہاں دیتے ہیں ہم اتنی عِزّت
کوئی پیارا ہو تو بس اُس سے گِلہ کرتے ہیں

یہ حقیقت ہے بڑی تلخ حقیقت صائم
کہ یہاں خواب سدا خواب رہا کرتے ہیں

افضل شریف صائم

post bar salamurdu

افضل شریف صائم

افضل شریف صائم ایک اردو شاعر ہیں، ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے، وہ محکمہ صحت میں کام کرتے ہیں، وہ ایم اے اردو میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button