آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفوزیہ شیخ

انکے چہروں پہ مسافت

فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل

انکے چہروں پہ مسافت کے نشاں ہوتے ہیں
جن کی قسمت میں کرا ئے کے مکاں ہوتے ہیں

کون آنکھوں میں چھپے کرب کو پڑھتا ہوگا
لوگ اتنے بھی سمجھ دار کہاں ہوتے ہیں

وقت کے ساتھ اترتی ہیں نقابیں ساری
ہوتے ہوتے ہی کئی راز عیاں ہوتے ہیں

تم نے سوچا ھے کبھی تم سے بچھڑ نے والے
کیسے جلتے ہیں شب و روز دھواں ہوتے ہیں

دور ساحل سے سمندر نہیں ناپا جاتا
درد لفظوں میں بھلا کیسے بیاں ہوتے ہیں ؟

پھول کھلتے ہیں نہ موسم کا اثر ہوتا ہے
ہم بہاروں میں بھی تصویر ِ خزاں ہوتے ہیں

میں نے ٹکڑوں میں بٹی آج بھی دیکھی عورت
روح ہوتی ہی نہیں جسم جہاں ہوتے ہیں

فوزیہ شیخ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button