اردو غزلیاتسیّد اقبال عظیمشعر و شاعری
ہر چند گام گام! حوادث سفر میں ہیں
سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل
ہر چند گام گام! حوادث سفر میں ہیں
وہ خوش نصیب ہیں جو تِری رہگزر میں ہیں
تاکیدِ ضبط، عہدِ وفا، اذنِ زندگی
کتنے پیام اک نگہ مُختصر میں ہیں
ماضی شریک حال ہے، کوشش کے باوجود
دھُندلے سے کچھ نقوش ابھی تک نظر میں ہیں
لِلہ اِس خلوص سے پرسش نہ کیجئے
طوفان کب سے بند مِری چشمِ تر میں ہیں
منزل تو خوش نصیبوں میں تقسیم ہو چکی!
کچھ خوش خیال لوگ ابھی تک سفرمیں ہیں
سیّد اقبال عظیم








