آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفوزیہ شیخ

مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں

فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل

مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں
خواب انسان کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں

ہاتھ آسانی سے آ جائیں تو دنیا والے
چاند تاروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہیں

میں نے بچوں کی طرح لاڈ اٹھائے اس کے
خیر بچے بھی کہاں سارے صلہ دیتے ہیں ۔

چھوڑ سکتے ہیں نہ اب انکو نبھانا ممکن
کچھ تعلق ہمیں بیمار بنا دیتے ہیں

اپنے رستوں کی سہولت کیلئے پیڑ تو کیا ؟
لوگ تعمیر ھوئے گھر بھی گرا دیتے ہیں

مار دیتے ہیں یہ تنہائ کے لمحات ہمیں
ورنہ خود دار کہاں مڑ کے صدا دیتے ہیں

فوزیہ شیخ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button