اے عہد رواں آ پاس میرے
تجھ سے تو فقط کہنا ہے مجھے
زنجیر ہے یہ میرے پیروں کی
تصویر ہے یہ میرے جیون کی
پیوست ہیں لب میرے آپس میں
مجبور میری ہر آس رہی
رفتار تیری خواہ تیز سہی
میں تو وہیں پابند کھڑی
شنوائی کی گھڑی کیا ٹھہری ہے
دو چار قرن یا اب کی صدی
پاتال کے پاپی کنویں میں
ہر چیخ میری محبوس رہی
کیا حال میرا ہے اُس نے کیا
شہہ زور ہے وہ شرمندہ نہیں
اے عہد رواں آپاس میرے
تجھ سے تو فقط کہنا ہے مجھے
منزہ انور گوئیُندی








