جب بھی برسات کے حبس زدہ شروع ہوتے ہیں میرے دوست ” میاں جی امن پسند المعروف زبک زبک” کی طبیعت میں بے چینی کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں جو دل سے ہوتے ہوئے چہرے اور آخر کار زبان پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کا علاج ہر چند کئی ڈاکٹرز اور حکیموں سے کروایا مگر کوئی بھی دوا موثر نہیں ہوئی سوائے اس کے جو بھی اپنے سے کمزور راہ گیر ملے اسے بات بے بات فصیح و بلیغ زبان میں وہ الفاظ سنائیں جنہیں عرفِ عام میں ” دشنام طرازی” کہا جاتا ہے۔لہذا جب سے یہ دوائی زبک زبک صاحب نے استعمال کرنا شروع کی ہے، تب سے برسات کی کوئی ایسی سہانی شام نہیں گزری جب وہ گریبان چاک کیے ہوئے گھر وارد نہ ہوئے ہوں۔” آج پھر کسی سے مار کھا کے آئے ہو؟” اس سوال کے جواب میں اُن کا ہمیشہ ایک ہی پہلو دار اور طرح دار جواب ہوتا ہے،” کم بخت نیچ گھٹیا کم ذات کلمونہہ کو دیکھتے ہی میرا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا "۔
” اچھا۔ تو پھر تم نے کیا کیا؟”۔
” بس میں نے کیا کرنا تھا۔ جو کچھ بھی کرنا اُس سامنے والے نے کرنا تھا۔ میں نے تو اپنا دل، جگر رخسار دامن سامنے رکھ دیے کہ لوٹ لے جو لوٹنا ہے۔ مگر ( روتے ہوئے) اُس ظالم نے مجھے لوٹنے کے بجائے زمین پر لٹا کے میری سیوا شروع کردی۔ کیا یہ زیادتی نہیں ہے؟ ہاں بتاؤ۔ آخر تم بھی ساری عمر مار کھاتے رہے ہو۔ کیا یوں کوئی بے آبرو کرکے کسی کو مارتا ہے بھلا۔ بد تمیز جاہل گنوار الو کا پٹھا کم بخت کو تشدد کرنے کے آداب کا بھی نہیں پتہ”۔ میں نے اُنہیں گلے سے لگا کر حوصلہ دیتے ہوئے کہا،” بس میاں! یہ زمانہ ہے ہی بے ادبوں کا۔ کئی بار تمہیں کہا ہے کہ کوئی اکیڈمی کھول لیتے ہیں جہاں تشدد کے آداب کا ڈپلومہ کروائیں مگر تم مانتے ہی نہیں۔ اب مزہ چکھو”۔ اس پر اپنے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا،” چلو اس پر سوچنے کیلئے کسی پر سکون جگہ چلتے ہیں؟”۔” نا بھئی میں تو لائبریری نہیں جاؤنگا۔ مانا کہ بہت پرسکون جگہ ہے۔ ایک بھی بندہ وہاں نہیں ہوتا۔ ساری لائبریری خالی پڑی ہوتی ہے۔ مگر ۔۔۔۔ مگر بھائی مجھے وہاں کتابیں دیکھ کر خوف آتا ہے۔ توبہ! اتنی کتابیں، اتنی کتابیں۔ یہ کون بے وقوف لگ تھے جو اتنی کتابیں لکھتے رہے۔ انہیں کوئی ڈھنگ کا کام کرنے کو نہیں ملا تھا؟’۔ میری بات سُن کر وہ سوچ میں پڑ گئے۔” بات تو ٹھیک ہے تمہاری۔ اب جس جگہ لائبریری بنی ہوئی ہے وہ کتنی قیمتی اراضی ہے۔ اگر بلدیہ والے تھوڑی سی ہمت کریں اور عوام الناس کی سہولت کو مدِ نظر رکھیں تو کل ہی اس کی عمارت کو گرا کر وہاں کثیر المنزلہ ایک شاپنگ مال بن سکتا ہے”۔ اُن کی یہ تجویز سُن کر میں ان کی ذہانت اور بصیرت پر عش عش کر اٹھا کہ موصوف شکل سے اتنے عقل مند اور تجارتی طبیعت کے نظر نہیں آتے مگر اُن کا دل اور سوچ مکمل تاجرانہ ہے۔” آپ کی یہ تجویز تو بہت ہی اچھی ہے۔ مگر عوام نے احتجاج شروع کردیا تو۔۔؟” میری بات سُن کر اُن کے چہرے پر ناپسندیدگی کے کچھ آثار جو ہائی بلڈ پریشر کی پہلی نشانی ہوتی ہے وہ پیدا ہوئے مگر فریقِ مخالف کو کمزور سمجھ کر اُن کو دبا دیا اور بولے،” ارے تم بھی کمال کی باتیں کرتے ہو۔ پندرہ بیس لاکھ کی آبادی میں سے اگر دو چار باغی طبیعت کھڑے بھی ہوئے تو اُن کو چپ کروایا جا سکتا ہے”۔
” مگر کیسے؟”
” بھائی سوشل میڈیا پہ اُن کے خلاف یہ کمپین لانچ کروادی جائے کہ چند سازشی عناصر ، عامتہ الناس کے اجتماعی فائدے میں رکاوٹ ڈال کر طوائف الملوکی اور بد امنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اور گورنمنٹ نے اگر ان ناپسندیدہ عناصر کی گردن کو نہ دبوچا تو خدشہ ہے کہ یہ زہر پورے شہر میں پھیل کر ایک ناسور بن جائے گا جس کا علاج ممکن نہیں۔ لہذا ایسے تمام سازشی عناصر اور تخریب کار لوگوں کو جو لائبریری کو گرانے کی مخالفت کر رہے ہیں اُنہیں شہر نہیں بلکہ ملک بدر کرکے ان کی علمی وغیر علمی جائیداد کو نیلام کر دیا جائے تاکہ یہ ہماری سوسائٹی کو سوچ شعور اور علم جیسی بیماریوں سے آلودہ نہ کرسکیں۔ منجانب جمعیت ِ محب وطن و تنظیم امن پسندی”۔
” مگر زبک زبک تمہیں یہ خیال کیسے آیا؟”
” بھئی کل بازار گیا تو مجھے رفع حاجت کے تقاضے نے گھیر لیا۔اب تمہیں تو پتہ ہے اس سیل کے سامنے بند کون باندھ سکتا ہے۔ سو میں نےشہر کے مرکزی بازار کے مرکزی نالے کے کنارے جیسے ہی اس بندکو توڑنے کی نیت سے ازارد بند کھو لا تو ایک صاحب کالی شیروانی اور جناح کیپ میں ملبوس میرے سر پر آن کھڑے ہوکر کہنے لگے، بھائی یہ تہذیب اور شرافت کے خلاف ہے”۔
” اچھا! اُس کی یہ جرات کہ آپ کو تہذیب اور شرافت سے گرا ہوا سمجھا۔ کم بخت۔ نام بتاؤ اُس کا۔ ابھی میدے جیب کترے سے کہہ کر اُس کے گھر پتھر نہ پھنکوائے تو نام بدل دینا میرا۔ تو نام بتا اس کا”۔ میں غصے سے بے قابو ہوگیا اور میری رگِ تہذیب جو پھڑکی تو ایک دو چھوڑ بیسیوں گالیاں فی البدیہہ زبان سے ادا ہوئیں جو شستہ ہونے کے علاوہ تشبیہ و استعارات کا بھی حسین مرقع تھیں۔
” بس میرے بھائی۔ غصہ تھوک دو۔ اگر وہ جاہل اور بد تہذیب تھا تو کیا ہم بھی اُس کے درجے پر آجائیں۔ اُسے چھوڑ اور میری بات سُن”۔ میاں زبک زبک نے مجھے ٹھنڈا کیا تو میرا دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہوگیا۔” اچھا ۔ پھر آگے بتاؤ”۔
” میں جب تقاضا ادا کرنے کے بعد اُٹھ کر پورے قد سے جو کھڑا ہوا تو سامنے میری نظر لائبریری کی ویران عمارت پر پڑی جو دن کے گیارہ بجے جبکہ بازار میں کھوے سے کھوا چل رہا ہوتا ہے اُس وقت بھی خالی پڑی تھی ۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ عمارت ہم سب کو کوسنے دے رہی ہو۔ بس مجھے آگیا غصہ کہ اس کی یہ جرات ۔میں وہیں کھڑا کھڑا یہ سوچنے لگا کہ اگر اس ویران اور قدیم عمارت کو گرا کر دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق گورنمنٹ ایک فرسٹ کلاس شاپنگ مال بنا دے تو لوگوں کا کتنا فائدہ ہوگا”۔
” ہاں بھئی۔ بات تو تمہاری ٹھیک ہے۔ اب دیکھو نا مرکزی بازار میں ایسی خالی عمارت کا بھلا کیا کام جو نہ کسی شادی ہال کیلئے استعمال ہوسکے نہ کسی اور مفید کام کیلئے۔ اوپر سے جو شاپنگ مال ہیں وہ شہر سے باہر۔ لوگوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے وہاں جانے کیلئے۔ وقت کا نقصان ایک طرف جو پٹرول خرچ ہوتا ہے اُس کا تو پوچھنا ہی کیا”۔
” بالکل۔ یہی بات۔ بالکل یہی بات۔ تم کتنے ذہین ہو جس نے میرا اشارہ سمجھ لیا۔پھر اس شاپنگ مال کا ایک دوسرا فائدہ بھی ہوگا”
” وہ کیا؟”
” بھئی اُس کے ایک فلور پر ہم بدمعاشی اور تشدد کے آداب کا ڈپلومہ دینے کیلئے ایک اکیڈمی بھی کھول لیں گے۔ شہر کے بالکل وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے تشدد اور بدمعاشی سیکھنے کے شوقین افراد جو ایسی اکیڈمیز شہر سے دور ہونے کی وجہ سے ابھی تک اس تعلیم سے بے بہرہ ہیں اور اپنی عمر جیل میں گزارنے کی بجائے گھر میں رہ کر ضائع کر رہے ہیں اُن کا دیرینہ سپنا بھی پورا ہوجائے گا۔ الغرض یہ ایک کثیر المقاصد پلازہ ہوگا ، جس کے نیچے والے فلورز پر دکاندار حضرات لوگوں کی جیب پر ہاتھ صاف کررہے ہوں گے اور اوپر والی منزل پر ” اکیڈمی آف سوک سنٹر” میں اطمینان، امن اور قانون کی پابندی جیسی نیچ عادات کو ناپسند کرنے والے افراد ہم سے قلبی، لسانی اور فکری تربیت حاصل کر رہے ہونگے”۔
” بھئی زبک زبک! سوچو کیا حسین عالم ہوگا اور کیا ہی سہانا منظر ہوگا جب اس شہر میں ہماری اکیڈمی کے تربیت یافتہ پاکیزہ نفوس شرافت اور تہذیب کے ہتھیار ہاتھوں میں تھامے شہریوں کو نیک چال چلن کا درس دیتے ہوئے جا بجا ایسے عناصر کی بیخ کنی کرتے نظر آئیں گے جو شہر میں امن و سکون، رواداری اور قانون پسندی کے علمبردار ہیں۔اب یہیں سے دیکھو پولیس والے بیچارے شہر میں مارے مارے پھرتے ہیں کہ کہیں سے کوئی درمیانے درجے کا نہ سہی کوئی چھوٹا موٹا ہی ملزم مل جائے مگر اُنہیں ہر شام منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔اور کہاں وہ منظر ہوگا جب تھانے والوں کے پاس شہر کا امن برقرار رکھنے، لوگوں کو پکڑنے اور ایف آئی آر درج کرنے کیلئے عملہ کم پڑجائے گا۔ ابھی یہ تھانہ جس کی حوالات کب سے اپنے مکینوں کی راہ دیکھتے بوڑھی ہوگئی ، اُس میں وہ رونق لگے گی کہ جگہ کم پڑجائے گی۔ ایک کمرے میں لترول، دوسرے میں چھترول ۔ ایک میں دست و گریبان ، دوسرے میں منت سماجت ہو رہی ہوگی۔ دس تھانے سے نکل رہے ہونگے تو بیس سرِ تسلیمِ خم کیے اندر جا رہے ہونگے۔ کیا منظر ہوگا۔ میں کہتا ہوں مری اور سوات کا حسین منظر کیا چیز ہے اس دلربا اور ہوش ربا منظر کے سامنے۔ بھئی بہت خوب میاں زبک زبک۔ مان گئے آپ کے امن پسند دماغ کو”۔
” اس کے علاوہ جھوٹی گواہیوں والے بیچارے غریب غرباء جو آئے روز غربت کے ہاتھوں تنگ آکر عدالتوں کے سامنے خود سوزی کی دھمکیاں دیتے ہیں اُن کا کتنا کاروبار چمکے گا۔ ایک ہی بندہ عدالت کے ایک کمرے میں قتل کے مقدمے میں گواہی ریکارڈ کروا کے ساتھ والے کمرے میں چور کی حمایت میں سینہ سپر کھڑا نظر آئے گا۔ ارے دیکھنا اس شہر میں جھوٹی گواہی دینے کم نہ پڑگئے تو کہنا زبک زبک تم نے فضول میں بک بک کی تھی”۔
” ایک اور اہم چیز میاں زبک زبک! بیت الخلاء بھی بنوانا اُس پلازے میں”
” کیا؟ یہ کیا جھک ماری ہے تم نے؟ بیت الخلاء۔ میاں! کیا فائدہ اتنا قیمتی پلازہ بنوا کر وہاں ایسی فضول چیز بنوانے کا۔ وہ جگہ جوبیت الخلاء کیلئے ضائع ہوگی وہ کیا کسی اور اچھے کام میں استعمال نہیں ہوسکتی؟ تم بھی نرے احمق اور بد ھو ہو۔ ساتھ میں بد تہذیبی اور نا شائستگی کا مرکب بھی۔ ہونہہ بیت الخلاء بنوا لینا”۔
” مگر پھر لوگ رفع حاجت کیلئے کہاں جائیں گے؟”
” ارے تو وہ مرکزی بازار کا مرکزی نالہ کیا نہانے کیلئے بنایا گیا ہے۔ یا اُس کا پانی پینے سے تمہارے خیال میں کیا خارش ٹھیک ہوجاتی ہے؟”
اُن کی بات میں چونکہ بے حد وزن تھا سو میں اس کے بوجھ تلے دب کر چپ ہوگیا کہ بات تو ٹھیک ہے۔ اور پھر سرعام نالے کے کنارے بیٹھ کر خواتین اور بچوں کے سامنے رفع حاجت کرنا بھلا کونسا بد تہذیبی اور ناشائستگی میں آتا ہے۔ یہ تو مہذب ، نفیس اور نجیب الطرفین معاشروں کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔
واجد علی







