افغانستان میں دہشت گردی کا نیا خطرہ
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
افغانستان کی موجودہ صورتحال خطے میں ایک نئے اور سنگین خطرے کا عندیہ دے رہی ہے۔ یہ خطرہ صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کی سلامتی کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ عالمی برادری اور خطے کے ممالک اس حقیقت سے واقف ہیں کہ افغانستان کی سرزمین اب دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے، جہاں وہ اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور نئے حملوں کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔
افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں حالیہ مہینوں میں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔ کئی علاقوں میں طالبان حکومت کے کنٹرول کے باوجود شدت پسند گروہ آزادانہ طور پر سرگرم ہیں اور اپنے لیے محفوظ ٹھکانے قائم کر چکے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے میں تشویش کی فضا پیدا کی ہے بلکہ امن و امان کے عالمی نظام کے لیے بھی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
افغانستان میں کئی خطرناک دہشت گرد گروہ فعال ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور افغان سرزمین کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ القاعدہ کے عالمی نیٹ ورک کی موجودگی اور داعش یا اسلامی ریاست خراسان (ISIS‑K) کی سرگرمیاں بھی واضح کر رہی ہیں کہ افغانستان عالمی دہشت گردی کے لیے ایک مرکز بنتا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر شدت پسند گروہ بھی موجود ہیں جو خطے میں امن قائم رکھنے کی کوششوں کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ گروہ نہ صرف اپنے مقامی مفادات کے لیے سرگرم ہیں بلکہ بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھ جڑ کر وسیع پیمانے پر خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
یہ گروہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ بڑے شہروں میں بھی امن و امان متاثر ہوتا ہے۔ حالیہ سرحدی جھڑپیں، شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونا اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ دہشت گردی کا یہ نیا خطرہ حقیقی اور فوری ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان کے حکام کو سرحدی تحفظ اور حفاظتی اقدامات بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے حادثے یا حملے کو بروقت روکا جا سکے۔
طالبان حکومت نے اب تک دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی میں کوئی واضح اور مستقل اقدامات نہیں کیے ہیں۔ اس ناکامی کی وجہ سے عالمی برادری طالبان پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ نہ بنانے دیں۔ اگر طالبان حکومت ذمہ داری سے کام نہیں کرے گی تو یہ خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر وسطی ایشیا کے ممالک اس صورتحال سے براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ دہشت گردی کی کارروائیاں سرحد پار پھیل سکتی ہیں۔ عالمی برادری طالبان حکومت پر زور دے رہی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ خطے میں امن قائم رہ سکے اور عالمی قوانین کی پاسداری ہو۔
شدت پسند گروہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اپنی سرگرمیوں کو بڑھا رہے ہیں اور نئے جنگجو بھرتی کر رہے ہیں۔ یہ پراپیگینڈا نوجوان نسل کو متاثر کر رہا ہے اور دہشت گردی کے لیے سہولت فراہم کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے اکاؤنٹس کی موجودگی نوجوانوں کو تشدد اور انتہا پسندی کی طرف راغب کر رہی ہے، جو خطے میں ایک نئے بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا
کے ذریعے دہشت گردی کی روک تھام بھی عالمی اور مقامی سطح پر نہایت ضروری ہے۔
افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں حالیہ جھڑپوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ پاکستان نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتی تو پاکستان خود اقدامات اٹھائے گا۔ یہ اقدامات صرف سرحد کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ خطے میں امن و سلامتی قائم رکھنے کے لیے بھی نہایت اہم ہیں۔ یہ پیغام طالبان حکومت کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ بین الاقوامی توقعات کے مطابق انہیں اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔
افغانستان سے دہشت گردی کا نیا خطرہ صرف افغانستان تک محدود نہیں ہے۔ اس خطرے کو روکنے کے لیے مشترکہ اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ طالبان حکومت کی ذمہ دارانہ پالیسی اور عالمی تعاون کے بغیر اس خطرے کو کم کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان سمیت خطے کے ممالک کو مل کر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ناکام بنانا ہوگا تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے اور شہریوں کی جان و مال محفوظ رہ سکے۔
یہ وقت صرف تشویش کا نہیں بلکہ عمل کا بھی ہے۔ عالمی برادری، طالبان حکومت، اور خطے کے ممالک کو مل کر فوری، مربوط اور سخت اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ افغانستان کو دہشت گردوں کا مرکز بننے سے روکا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام قائم رہ سکے۔ اگر یہ اقدامات بروقت نہ کیے گئے تو دہشت گردی کا نیا بحران پورے خطے کے لیے سنگین نتائج لے کر آئے گا۔
یوسف صدیقی








