کشتی مافیا اور ڈوبتی انسانیت کا کرب
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
گھروں کی چھتوں پر بیٹھے روتے بچے، اپنے بیمار ماں باپ کو کاندھوں پر اٹھائے بھاگتے جوان، اور زندگی و موت کے درمیان جھولتی عورتیں… یہ منظر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے ہیں، جہاں پانی صرف کھیتوں اور مکانوں کو نہیں بہا رہا بلکہ انسانیت کو بھی ڈبو رہا ہے۔ لوگ اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے چیخ رہے ہیں، لیکن ان کی چیخیں پانی کے شور میں گم ہو رہی ہیں۔ ایسے وقت میں جب انسان کو انسان کا سہارا بننا چاہیے تھا، کشتی مافیا نے مظلوموں کی بے بسی کو کاروبار بنا لیا ہے۔
ایک متاثرہ شخص آنکھوں میں آنسو لیے بتاتا ہے: "میں نے اپنی فیملی کو کشتی میں بٹھایا اور چالیس ہزار روپے دے کر ان کی جان بچائی۔” یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں، ہر بستی میں دہرائی جا رہی ہے۔ کہیں چار ہزار فی بندہ لیا جا رہا ہے، تو کہیں جانور کو نکالنے کے لیے بھی پانچ ہزار روپے مانگے جا رہے ہیں۔ گویا انسانیت کی قیمت لگا دی گئی ہے، اور زندگی کو خرید و فروخت کی چیز بنا دیا گیا ہے۔
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مشکل وقت میں دوسروں کی مدد سب سے بڑی نیکی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا” (اور جس نے کسی ایک جان کو بچایا، گویا اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا۔) [المائدہ: 32]۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔” (صحیح بخاری)۔ یہ تعلیمات بتاتی ہیں کہ کسی ایک جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے، لیکن افسوس آج جانیں بچانا عبادت نہیں بلکہ دھندا بنا دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ سیلاب میں لاکھوں خاندان متاثر ہوئے، ہزاروں گھر تباہ ہوئے، اور سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ وہ وقت ہے جب حکومت کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ متاثرین کو بروقت ریسکیو، خوراک اور پناہ فراہم کرے تاکہ عوام کشتی مافیا کے رحم و کرم پر نہ ہوں۔ یقیناً کئی ادارے ریسکیو اور امداد میں مصروف ہیں، اور بعض جگہوں پر نوجوان رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو بچا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدامات ضرورت سے بہت کم ہیں۔ اسی خلا کو مافیا بھر رہا ہے اور عوام کی مجبوری کو لوٹ مار میں بدل رہا ہے۔
یہ صرف مافیا کا جرم نہیں بلکہ حکومتی غفلت کا نتیجہ بھی ہے۔ اگر ریاست اپنے فرائض پوری دیانتداری سے انجام دے تو کوئی شخص چند روپے کے لالچ میں جانوں کا سودا کرنے کی جرات نہ کرے۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص آفات کے وقت انسانوں کی جانوں سے کھیلنے کی ہمت نہ کر سکے۔
یہ لمحہ ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے: کیا ہم انسانیت کو زندہ رکھیں گے یا پیسوں کے لالچ میں اسے دفن کر دیں گے؟ سیلاب کا پانی تو کبھی نہ کبھی اتر جائے گا، لیکن اگر ہمارے دلوں میں موجود بے حسی نہ نکلی تو یہ قوم ہمیشہ ڈوبی رہے گی۔ آئیں! ہم سب مل کر انسانیت کے لیے کھڑے ہوں، مظلوموں کا سہارا بنیں، اور دنیا کو بتائیں کہ پاکستانی قوم مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ یہی جذبہ ہمیں زندہ رکھے گا اور یہی عمل تاریخ میں ہمیں سرخرو کرے گا۔
یوسف صدیقی








