آپ کا سلاماحمد کامراناردو غزلیاتشعر و شاعری

تو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا

احمد کامران کی اردو غزل

تو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا

میں زیادہ کو میسر نہیں آیا کرتا

میں ترا وقت ہوں اور روٹھ کے جانے لگا ہوں

روک لے یار میں جا کر نہیں آیا کرتا

اے پلٹ آنے کی خواہش یہ ذرا دھیان میں رکھ

جنگ سے کوئی برابر نہیں آیا کرتا

چند پیڑوں کو ہی مجنوں کی دعا ہوتی ہے

سب درختوں پہ تو پتھر نہیں آیا کرتا

اب مجاور بھی قلندر سے بڑے ہو گئے ہیں

اب مزاروں پہ کبوتر نہیں آیا کرتا

احمد کامران

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button