اختر عثماناردو غزلیاتشعر و شاعری

سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھے

اختر عثمان کی ایک اردو غزل

سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھے
ڈھلی جب شام تو تنہائی کی ٹہنی پہ جا بیٹھے

خماری بھی ہے اور بادِ بہاری بھی سرِ صحرا
اور اس لمحے عروسِ گُل اگر پہلو میں آ بیٹھے

مُبادا خلوتِ خوشبو کا شیرازہ بکھر جائے
گلوں پر بے نیازانہ بہ اندازِ صبا بیٹھے

ازل سے آمد و شُد کا یہ کارِ دہر ہے جاری
زمینوں کے خدا اُٹھے زمانوں کے خدا بیٹھے

ہمیں بھی کچھ نکھرنا ہے ہمیں بھی کچھ سنورنا ہے
کوئی صورت نکل آئے اگر تھوڑی ہوا بیٹھے

کوئی آہستگی سے بھی اٹھائے تو بکھر جائیں
چمن کے راستے پر ہم بہ طرزِ نقشِ پا بیٹھے

ان آنکھوں پھیلتا سرمہ ہے وجہِ زندگی اختر
اسی کی دھن میں رہتے ہیں صدا بیٹھے گلا بیٹھے

اختر عثمان​

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button