اردو غزلیاتشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

ترا خواب آنکھوں کو پیغام دے

ایک اردو تحریر از شہزاد نیر

ترا خواب آنکھوں کو پیغام دے
مرے رت جگوں کو کوئی نام دے

خیالوں کی بے سمتیاں جھیل کر
پرندہ یہ بولا، مجھے دام دے

بنے کاش تجھ سے تعلق مرا
تعلق بھی ایسا جو الزام دے

کسی باغ میں پھول کھلتا نہیں
کسے کوئی ہونٹوں کا انعام دے

ترے رخ کا سورج بھی ایسا نہیں
جو راتوں کے جاگے کو آرام دے

کدھر بھاگتی جا رہی ہے سڑک!
ذرا ٹھیر، سورج تجھے شام دے

چراغوں کو اب طاق ملتا نہیں
وہاں چاند نکلا، اسے بام دے

وہ سب خاص لوگوں کی محفل میں ہیں
انہیں کون فکرِ رہِ عام دے

شہزاد نیر

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button