آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

سینے میں ہجرِ یار کے گھاؤ کے باوجود

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

سینے میں ہجرِ یار کے گھاؤ کے باوجود
جینا تو ہے ناں ذہنی دباؤ کے باوجود

کیا جانے کب جلال میں آ جائے سیلِ آب
دریا سے ڈر رہی ہوں میں ناؤ کے باوجود

پھر قہقہہ لگانا پڑا زندگی کے ساتھ
آواز میں نمی کے رچاؤ کے باوجود

اک شام لوٹ آیا پرندہ شجر کے پاس
آوارگی سے خوب لگاؤ کے باوجود

دنیا میں اُس سے بڑھ کے کوئی بھی نہیں عزیز
اوروں کی سمت اُس کے جھکاؤ کے باوجود

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button