Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہے
اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے
شاہد ذکی کی شاعری
پھر کسی حادثے کا در کھولے
کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے
یوں تو شیرازۂ جاں کر کے بہم اٹھتے ہیں
اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے
ایک زاہدہ، ایک فاحشہ
بُڈّھا کھوسٹ
بدصورتی
راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی
بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے
<<
1
...
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
...
709
>>