Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے
سورج اٹھائے ڈھونڈو گے ہم کو گلی گلی
داستاں میں آج شب اک ایسا منظر آگیا
ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے
میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں
جیسے جیسے کر رہا ہوں عمرِ رفتہ کا حساب
تب کہیں جھکایا ہے سر غرورِ شاہی نے
اس نے تراشا ایک نیا عذرِ لنگ پھر
کچھ رہ جانے والی باتیں
راتیں سمیٹ لوں گا سحر چھوڑ جاوْں گا
کھردری گرد کی کھال
سودا بیچنے والی
سو کینڈل پاور کا بلب
سوراج کے لیے
<<
1
...
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
...
709
>>