آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون
اے حُسنِ لازوال، تِرے غم نے کر دیا
ایک اردو غزل از عُظمی جٙون
اے حُسنِ لازوال، تِرے غم نے کر دیا
مجنوں سا میرا حال تِرے غم نے کر دیا
مجھ کو تو اِک مِثال تِرے غم نے کر دیا
اِتنا بڑا کمال تِرے غم نے کر دیا
جو حالِ شہ مُرید تھا ہانی کے عشق میں
ویسا ہی میرا حال تِرے غم نے کر دیا
اوجِ فلک پہ میرا ستارہ تھا، پھر اُسے
آمادۀ زوال تِرے غم نے کر دیا
اِک عُمر سے تھا مُنقطع میرا غموں سے ربط
پھر سے اِسے بحال تِرے غم نے کر دیا
میں کیا جواب دوں گا اُسے قہقہوں کے بِیچ
مجھ سے اگر سوال تِرے غم نے کر دیا
دل کے سہارنے کو کئی لوگ مِل گئے
یوں ہجر کو وصال تِرے غم نے کر دیا۔
خواہش نہیں رہی ہے مِرے دل میں کوئی اور
ایسا مجھے نہال تِرے غم نے کر دیا
اب پھر سے عِشق وِشق کی ہمّت نہیں رہی
مجھ کو بہت نِڈھال تِرے غم نے کر دیا
عُظمی جٙون








