وہ نیم پاگل سی لڑکی بار بار چینخ کر فریاد کر رہی تھی۔کہ یہاں سے مجھے باہر نکالو
وہ بار بار چینخ کر فریاد کر رہی تھی۔کہ یہاں سے مجھے باہر نکالو میں جاسوس نہی ھوں۔میری بات سنو۔اک بار میری بات سن لو ۔پھر اسکے بعد جو سزا دو گے منظور ھو گی۔
مگر وہ اپنے علاقے کا بڑا سردار تھا۔اور اسی کے فیصلے پر عمل ھوتا تھا۔جب سرادار کو یہ علم۔ھوا کہ اک لڑکی قید میں ھے۔وہ وہ اک بار فریاد کی التجا کر رہی ھے۔تو سرادر نے اسکی سنائ کا حکم دے دیا۔
اس لڑکی کو پردے میں لایا گیا۔
تمہارا نام کیا ھے؟
میرا نام گل خان۔ھے۔سردار میں ساتھ والے قبیلے سے ھوں۔اپنی بکریاں چڑانے نکلی تھی تو کچھ بکریاں پہاڑی عبور کرتی ادھر آگئ تو ان۔کو لینے آئ تھی بس اور کچھ نہی
سردار یہ لڑکی جھوٹ بولتی ھے۔یہ یقینا زوار خان کی سازش ھے۔اس نے اسے یہاں بیجھا ھو گا۔خبر لینے کے لیے۔
سردار یہ جھوٹ بول رہا ھے۔آخر زوار خان کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ اک لڑکی کو بھجیں۔وہ بھی جاسوسی کے لیے۔یہ تو اسکی غیرت کے خلاف بہت بڑی سازش ھوگی۔
میں جھوٹ نہی بول رہی خدا گواہ ھے میری بکریاں ادھر غلطی سے آگئ تھی۔
نہی سردار اس سے کاپی اور قلم بھی ملا ھے۔آخر یہ بکڑیاں چڑاتے وقت کاپی قلم کیوں رکھے گی؟
ہاں بچی۔یہ بات بھی سچ ھے۔آخر تم کیوں رکھوں گی پاس قلم وغیرہ
سردار میں لکھتی پڑھتی ھوں ۔اسی لیے میرے پاس وہ چیزیں تھی۔
نہی تم ہماری باتیں لکھنے آئ تھی۔بھلا مجھے کیا ضرورت بھائ تم احمقانہ بات کیوں کر رہے ھو۔بھلا میں کیوں جاسوسی کروں گی۔میں تو۔تم سب کو جانتی تک نہی ھوں۔
سردار اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا
کیونکہ دوسرے قبلیے کے ساتھ انکی برسوں کی دشمنی تھی
یہ دشمنی قتل وغارت کی نہی زمیں و جائیداد کی نہی آسماں و پہاڑوں کی نہی یہ دشمنی عورتوں کی پڑھائ انکے اصولوں کی تھی۔
سردار خان عبدل جبار خان عورتوں کی پڑھائ کے خلاف تھا اور دوسری طرف سردار محمد خان درانی عورتوں کی پڑھائ سے لے کر انکے خقوق کا پاسدار تھا۔
یہی وجہ تھی دونوں کے درمیاں اک طویل جنگ کی
پہاڑ کے دوسری طرف عورتوں کے لیے سکول تھے۔خقوق تھے انکو آزادی تھی اپنی شریعت کے مطابق ذندگی گزارنے کی جہاں عورتیں خوشی و سکون سے گزر بسر کر رہی تھی۔
اور دوسری طرف عورتیں اک قید بھری ذندگی میں گم تھی جنہیں الف ب سے لے کر اپنے خقوق کی بات کرنے تک کا۔علم نہ تھا ۔وہ باہر کی دنیا سے لا علم تھیں۔
اگر ان۔میں سے کوئ اپنے حق کی بات کر بھی لیتا تو اسکو نافرمان۔سمجھ کر ایسی سزا دی جاتی کہ دوبارہ وہ بات کرنے کے قابل نہ رہتی۔
گل خان اب دو پہاڑوں کے بیچ میں کھڑی تھی ۔جہاں وہ بات کرتی تو سب ایسے دیکھتےجیسے کوئ باہر کی مخلوق بول رہی ھو۔کیونکہ وہاں کہ مردوں کے لیے یہ بات عجیب تھی کہ اک لڑکی اپنے حق میں صاف گوئ سے اتنے مردوں کے بیچ بات کر رہی ھے۔نہ کوئ ڈر نہ خوف۔
مگر اب سردار کو اس لڑکی سے کوفت ھونے لگی۔اور اسے دوبارہ قید کرنے کا حکم دے دیا گیا۔جس بات پر لڑکی چلا کر بولی اب تم سب زوار خاں کے وار سے بچنا وہ مجھے یہاں سے لینے آجاۓ گے۔
اور دوسری طرف قبیلے میں شور میں مچ گیا گل خاں غائب ھے۔اسکے ماں باپ زاروقطار رو رہے تھے ۔صبح بکریاں چرانے گئ تھی اب تک واپس نہی آئ
دور سے اک بچہ دوڑتا ھوا آیا اور بولا۔گل آپی دوسرے قبیلے کی طرف بھاگ کر جا رہی تھی اپنی بکری کے پیچھے۔
اب کیا گاؤں میں سب پریشان ھو گۓ۔کیونکہ اصول کے مطابق وہاں گیا یا وہاں کا یہا ں آیا بندی بنا کر ساری عمر قید کر لیا جاتا عورت کا نکاح کروا دیا۔جاتا۔اور غلام بن۔کر انکی خدمت کرتی۔
مرد کو یا مار دیا۔جاتا یا پھر ایسی سزا و قید دی جاتی وہ خود مر جاتا۔
جب یہ بات سرادر تک پہنچی تو اسی وقت زوار خان کو حکم دیا گیا کہ وہ وہاں کے سردار سے بات کرے۔کیونکہ گل خاں زوار خاں کی ھونے والی بیوی بھی تھی اور نکاح میں تھی بس رخصتی ھونا باقی تھی جس بات کو لے کر سردار دارنی کو۔فکر لاحق ھوگئ۔
وہ تھی تو غریبب کی بیٹی پر اپنے حسن و خوبصورتی ذہن۔و شعور سے زوار کی اولین پسند۔تھی اور کافی جدوجہد۔کے بعد سردار کو مجبور ھو کر انکا نکاح کرنا پڑا۔
اب زوار نے اپنے کچھ بندے بھیجے۔مگر وہ سب خالی ہاتھ لوٹے
سردار جبار نے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا وہ ہماری قیدی ہے اب
اصول کے حساب سے وہ قیدی بن کر ہماری حویلی میں کام کرے گی۔
مگر زوار کو یہ بات برداشت نہ ھوئ ۔اور وہ غصے میں آکر ہتھیار و پورا جرگہ لے کر جانے لگا۔
جب اسکے باپ نے یہ کہہ کر روک دیا۔کہ بات لڑائ سے نہی عقل سے حل کرو۔
مگر بابا وہ میری بیوی کو کیسے غلام بنا۔سکتا۔
وہ میرے نکاح میں ھے مطلب سردار درانی کی بہو۔ہاں یہی بات ھے تو کھاۓ جا رہی ھے
گل آج سے تم اس گھر کی نوکرانی ھو۔پر مجھے تو کچھ نہی آتا ۔کوئ بات نہی سب آجاۓ گا اب کونسا تم کہی جا رہی ھوں
گل رونا شروع ھو گئ۔میں زوار درانی کی بیوی ھوں۔
وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں وہ۔ضرور کچھ کرے گا میرے لیے
دیکھتے ہیں کس کی چلتی ھے۔بیبی۔چل برتن مانجھوں اب وقت. اور ھے تم ہماری غلام ھو۔
وہ روتے روتے دعا کرنا شروع کر دیتی ھے۔
اب کئ دن گزر جاتے ہیں۔گل کو انتظار ھوتا زوار کے آنے کا اور ادھر زوار بےچینی کی کیفیت میں سوچ لیتا ھے۔اب مقابلہ کر کے ہی گل کو واپس لانا۔
اک روز جبار کی بیوی حساب کر رہی ھوتی ھے۔اورہپاس سونے سے بھرا ڈبہ. کھول کر بیٹھی ھوتی ھے۔
گل پاس صفائ میں مصروف ھوتی ھے۔اچانک اسکی بیوی کوحساب میں غلطی لگتی ھے۔وہ پریشان ھو جاتی ھے۔کہ سونا تو اتنے کا ھے پر یہ اتنے کا کیوں ھے۔
وہ بربرا رہی ھوری ھے
میں نے تو اتنے دیے تھے یہ اتنے کیسے ھو سکتے۔گل وہاں کھڑی سب دیکھ رہی ھوتی ھے۔گل سب سمجھ کر بول پڑتی ھے۔
میں مدد کر سکتی ھو ۔تم۔کیسے تمہیں کیا پتہ سونے کے داموں کا
دیکھیں آپ نے کتنے روپے دیے تھے۔؟
میں نے اسکو لاکھ دس ہزار دیا تھا۔ہمم
تقریبا ایک لاکھ دس ہزار
اچھا آپ نے جو بنوایا تھا وہ ھے پاس
ھاں ھے دکھائیں۔ وہ اسکو دکھاتی ھیں
اچھا پھر آپ کسی اور ایماندار سے ایک بار اس چیز کا وزن کرایا۔
۔وہ کیوں؟
جب وہ اس انگوٹھی کو دیکھتی ھے تو وہ وزن کے اعتبار سے تو وزنی لگتی ھے مگر اسکو گڑبر سمجھ آجاتی ھے کہ اصل مسلہ کدھر ھے۔ کیونکہ وہ ملاوٹ ذدہ ھوتی ھے
یہ تو سونے کا اصل رنگ تو نھی لگتا ۔کیونکہ سونا اتنا بھی پیلا نہی ھوتا۔
خیر وہ پہلے اسکی باتوں کو نظر انداز کرتی ھے پھر سوچتی ھے کیوں ناں کروا لوں۔
وہ اپنے سب سے ایماندار ملازم کو یہ کام سونپتی ھے کہ نہ صرف اسکا وزن کراؤ بلکہ یہ بھی پتہ لگاؤ یہ اصل ھے یا ملاوٹ زدہ
وہ آدمی بازار جاتا ھے کسی سنار کے پاس
وہ جا کر اسکو دیکھاتا ھے انگھوٹی اصل ہے یا۔ نہی وزن مالیت کیا ھے۔
سنار غور سے اپنے طریقے سے دیکھنے کے بعد بتاتا ھے اس میں سونا کم اور تابنا زیادہ ھے اور وزن کے لحاظ سے یہ سونے کے برابر ھے اور اسکی مالیت سب ڈال کر کمازکم پچاس ہزار ھو گی۔
وہ پرچی بنوا کر لے آتا ھے۔
اور جب سردارنی کو دیکھاتا ھے وہ خیران و پریشانی میں رہ جاتی ھے وہ یہ بات اپنے شوہر کو بتاتی ھے تو وہ بھی خیران ھو کر اس لڑکی کو بلاتا ھے۔
تمہیں کیسے پتہ چلا اس کی ملاوٹ او رنگ و مالیت کا
سردار ہمارے ہاں زیادہ تر پیشہ سنار راجپوت کا ھے۔تو یہ سونا پہننا اور مالیت رنگ یہ سب ہمیں معلوم ھوتا کیونکہ یہ تقریبا ہر گھر کا کام ھے۔
اسلیے جب سردانی اپنے حساب میں پریشان تھی تو میں انکی اجازت سے جب انکی انگوٹھی کو دیکھا تو سمجھ گئ مسلہ کیا ھے۔
بس پھر بتا دیا۔
سردار اسکی اس ھوشیاری سے بہت خوش ھوا۔ اور کہا تم ٹھیک کہتی ھو عورت کو اتنا۔غلام نہی ھونا چاھیے ۔
نہ جانے کتنی بار وہ میری بیویوں سے پیسے لے چکا ھو گا دھوکے سے
جرگے میں اسکو بلایا جاتا تھا اور اس سنار کو جس سے وہ چیزیں لیتے تھا۔
سردار نے جب پوچھا بتاؤ حساب کتاب
تب سنار بولا ۔سردار مجھے یہ جتنا کہتا تھا میں اس حساب سے کر دیتا تھا۔
سردار مجھے معاف کردیں ۔سردارنی صاحبہ نے کبھی حساب نہی پوچھا تو میں یہی سمجھتا تھا انکو کیسے پتہ لگے گا۔
سردار معاف کر دیں۔
تم نے نہ جانے کتنی بار دھوکا دیا یہ تو بھلا ہو اس بچی کا۔ جس کی تعلیم و عقلمندی نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ بس اس دوران اس گل کی دانشمندی کے چرچے ھونے لگے ۔
اور سردار نے اس سنار اور لڑکے کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔
ادھر جب زوار تک یہ بات پہنچی تو۔اسکو اپنی پسند پر بہت فخر ھوا اس نے اپنے باپ سے اسکی آزادی کی بات کی۔
دوسری طرف رات کو جب سردار کی ساری بیویاں بیٹھی ھوئ تھی
تو انہوں نے اس بچی کی آزادی کی درخواست سردار کے آگے رکھ دی
سردار وہ سمجھدار بچی ھے۔ وہ غلامی کرتی اچھی نہی لگ رہی اسکو جانے دیں۔ جو سبق اس نے ھمیں دیا ھے کیا وہ کافی نہی ھے۔
سردار اب جو دور ھے اس میں عورت کو اتنی آزادی تو ہونی چاھیے وہ اپنے حق کو سمجھ سکے۔ اپنے لیے بہتر سوچ سکے۔
سردار پہلے خاموش رہا پھر اس نے فیصلہ کیا اسکو۔ آزاد کیا جاۓ گا اور نہ صرف وہ اپنے وہ سب فیصلے واپس لے گے جو عورتوں کو غلام بننے کی صورت پر دائر تھے۔
صبح دوسرے قبیلے پیغام بھیجا گیا کہ سردار محمد خن درانی کو اجازت ھے وہ اپنی لڑکی عزت سے لے
جاۓ۔
دوسری طرف قبیلے کے سب بڑے لوگ آۓ اور بیٹھ گۓ
آپ سب کو بلانے کا مقصد یہ تھا یہ سب پرانے گلے شکوے بھلا کر کیوں نہ اک نئ دوستی کا آغاز کیا جاۓ۔آپ کی لڑکی نے ہمیں بہترین سبق دیا۔ کہ بچیوں کے لیے تعلیم اتنی ہی ضروری ھے جتنی لڑکوں کے لیے۔ اسلیے ہم نے یہ فیصلہ کیأ ھے کہ ہم بھی اپنے قبیلے میں لڑکیوں کا سکول کھولیں گے اور أپ کے قبیلے کی پڑھی لکھی عورتوں کو آزادنہ دعوت ھے وہ آکر ہماری بچیوں کو تعلیم دیں ہم انکو موازنہ عطا کریں گے انکی محنت کا
گل اسوقت بہت خوش تھی کہ اسکی وجہ سے کئ لڑکیوں کو غلامی سے آزادی ملے گی اور وہ اپنے حق کو پہچانے گی
اس نے تمام سردانیوں کا شکریہ ادا کیا۔ کہ ان سب کی وجہ سے اج وہ آزاد ھوئ ھے۔
زوار اسوقت فخرانہ انداز سے سب کا شکریہ وصول کر رہا تھا
سردار خان درانی نے سردار جبار کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ گلے لگ کر اسکے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
یوں گل بہار کی وجہ کے برسوں کی پرانی دشمنی ختم۔ ھو گئ۔ اور دونوں قبیلوں میں خوشی کا سماں پید ھو گیا۔ اسی خوشی میں رواں ھفتے زاور اور گل کے نکاح کی تقریب منعقد کی گئ جس میں دونوں قبیلوں کے لوگوں نے شرکت کی۔
کہانی اکا اختتام اس بات پر ھوتا ھے۔
عورت کے لیے تعلیم اتنی ہی ضروری ھے جتنا بچوں کی پرورش سے لے کر گھر کی ذمے۔ داری کو سنبھالنا ھے۔
شعور و تعلیم عورت سے ہی اگلی نسل تک منتقل ھوتا ھے۔
چاھے وہ گھر کی چار دیواری سے ھی کیوں نہ شروع ھو۔
صنم فاروق حسین








