- Advertisement -

غیر جانبدار اسٹیبلشمنٹ؟

سید محمد زاہد کا ایک اردو کالم

دسمبر 1970 کے الیکشن میں تیرہ سال مطلق العنان حکومت کرنے والے ایوب و یحییٰ اور ان کی پارٹی کے مہرے بری طرح پٹ گئے۔ مشرقی پاکستان میں ماضی کے ’غدار‘ مجیب الرحمان اور مغربی حصہ میں مستقبل کے ’غدار‘ بھٹو کی پارٹیاں اکثریت حاصل کر گئیں۔ اس کے بعد بھی حکمران ٹولہ نوشتہ دیوار پڑھنے میں ناکام رہا۔ وہ ڈھاکہ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھی حکومت چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے۔ پھر عوام کے جم غفیر نے اپنا ہدف کمانڈر انچیف کے گھر کو بنا لیا۔ ’بی ٹیم‘ جماعت اسلامی نے وقتی طور پر عوام کے غیض و غضب کا رخ پشاور میں شراب کی دکانوں کی طرف موڑ دیا اور ’عزت سادات‘ لٹتے لٹتے بچ گئی۔ بالآخر اس شرمناک شکست کے بعد عوامی دباؤ سے مجبور ہو کر 20 دسمبر 1971 کو حکومت بھٹو کے حوالے کرنا پڑی۔

ذوالفقار علی بھٹو جاگیردارانہ ذہنیت کے مالک تھے۔ طاقت جمع کرنے اور اسے استعمال کرنے کے شوقین تھے۔ انہوں نے اس شکست خوردہ جماعت کو دوبارہ مضبوط کیا۔ خاک آزمیدہ عزت کو نئی زندگی بخشی۔ انہیں غلط فہمی تھی کہ یہ محکمانہ طاقت عوامی وزیراعظم کے ہاتھوں کو مضبوط کرے گی۔ بھٹو نے فوج کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تبدیل کر دیا۔ کمانڈر انچیف کے عہدے کو چیف آف سٹاف میں بدل دیا۔ تینوں فورسز کے سربراہوں کا قد کاٹھ برابر کر کے انہیں وزارت دفاع کے ماتحت کر دیا۔

ان کا خیال تھا کہ یہ تبدیلیاں اور آئین میں ڈالی گئی سنگین غداری والی شق شقاوت قلب کے مارے بیداد گروں کا راستہ روک لے گی۔ اس کج فہمی نے انہیں اتنا بے فکرا کر دیا تھا کہ 77 کی اپوزیشن تحریک کے عروج میں مذاکرات ادھورے چھوڑ کر وہ غیرملکی دورے پر چلے گئے۔ یہ کج رائی اس وقت بھی موجود تھی جب انہوں نے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیا الحق کی مونچھوں پر پھبتی کسی۔ وہ اس اندھی طاقت کے پنپنے کی صلاحیت کا اندازہ نہ کر سکے۔ پھر چار سال سے بھی کم مدت کی آئینی حکمرانی کے بعد عوام کی پیٹھ پر مارشل لا کا کوڑا برسنا شروع ہو گیا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ گیارہ سالہ تاریک دور عوامی حکومت کی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے کھوکھلا کر گیا۔ آئین میں ایسی آمرانہ تبدیلیاں کی گئیں کہ اس کا اصل چہرہ ہی چھپ گیا۔

اسی دور میں اسٹیبلشمنٹ نے اپنی بزنس ایمپائر پورے طمطراق سے استوار کر لی۔ سول اداروں میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس افراد بٹھا کر خود کو انتہائی مضبوط کر لیا۔ ایوب اور یحییٰ خاں کے خلاف سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والی عوامی طاقت اور بھٹو کی عوامی مقبولیت سے اسٹیبلشمنٹ کو سول سوسائٹی کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ 77۔ 88 اور اسے بعد اس نے عوام میں اپنے بندے لانچ کر دیے۔ بہت سے لوگوں کو خرید لیا اور بہت سوں کو ڈرا دھمکا کر ساتھ ملا لیا۔ مشرف کی آمریت میں مکے لہرا کر عوام کو دھمکایا اور طابع فرمانوں نے کراچی کی سڑکوں کو خون سے رنگ دیا۔

اب سیاسی اکھاڑے کے یہ پٹھے خلیفہ بن چکے ہیں۔ یہ بہت مضبوط ہو چکے ہیں لیکن نا اہل اور لاپروا بھی۔ یہ لاپرواہی بدنامی کا باعث ہے۔ بزدل فرزند پاکستان کہتے ہیں ”ہمارے سر پر ہما کا سایہ ہے اور یہی ہماری حکومت کی مضبوطی کی دلیل ہے۔“

لیکن ایک بات وہ بھول گئے کہ حکمرانی اور سیاست ایک ایسا فن ہے جو کسی محکمہ کی نوکری میں نہیں سیکھا جاسکتا۔ یہ کسی گیٹ پر ماتھا ٹیکنے سے بھی نہیں آتا۔

یہ نسل در نسل لوگوں کی خدمت اور عوامی روابط کی محنت کا ثمر ہے۔

اب نا اہل، لانچ کیے گئے مہرے بری تک پٹ چکے ہیں۔ ہائبرڈ رجیم (دوغلی حکومت) مارشل لا کی طرح ناکام ہو چکا ہے۔ حواریوں کو نظر آ رہا ہے کہ اب کی بار ہما کا سایہ بھی کامیابی کی علامت نہیں ہو گا۔ 2018 میں چہیتوں کی جیپیں الٹ گئیں تو آر ٹی ایس کو بٹھانا پڑا تھا۔ اب دھند میں بھی ووٹ کے پہرے دار موقع میسر نہیں ہونے دیتے۔ ضمنی اور بلدیاتی انتخابات نے بتا دیا ہے کہ عوام بہت غصے میں ہیں۔ اب کی بار خون خرابہ بھی ہو سکتا ہے۔ حالات 71 سے برے ہیں اور عوامی غصہ بھی۔ جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

ڈھاکہ میں آدھا ملک سرنڈر کیا تھا اور اب پورا سٹیٹ بنک ہی لٹا دیا گیا ہے۔ دو سال پہلے کشمیر گنوایا اب پورے ملک کو ہی بیچ دیا گیا ہے۔ جھولی پھیلائے کھڑے ہیں کہ کچھ مدت کے لیے ایک بلین ڈالر قرض مل جائے۔ دینے والے اس کے ساتھ ضمانت بھی مانگتے ہیں، برادر اسلامی ملک کی ضمانت۔

اب کوئی بزنس ایمپائر ملک کے کام نہیں آ رہی۔

افغانستان میں فتح کے شادیانے بھوک نہیں مٹا سکے۔ مثبت رپورٹنگ لوگوں کو نوکریاں نہیں مہیا کر سکی۔ فون کالز نے ضمنی مالیاتی بل منظور کروا لیا، مال مہیا نہیں کر سکیں گئیں۔ وزیراعظم اپنی کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کر جاتے ہیں تو وزیر دفاع کو سگریٹ کی حاجت محسوس ہوتی ہے۔ سگریٹ پلانے والے یاد دلاتے ہیں کہ آپ اپوزیشن میں نہیں، حکمران ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ملک کی معیشت یہ نا اہل نہیں سنبھال سکے۔ حکومت گرنے کو تیار ہے، کوئی گرانے کو نہیں۔ حل وزیراعظم کے منہ سے برآمد ہو گیا ہے کہ میں اپوزیشن کو حکومت کی دعوت دے دوں گا۔

لیکن اپوزیشن نیا الیکشن چاہتی ہے۔
اب کی بار نیوٹرل ایمپائر اور اسٹیبلشمنٹ کی مکمل غیر جانبداری بھی۔
جو کہ ابھی تک مشکوک ہے۔ جو ابھی بھی دسمبر 71 والی چالیں چل رہی ہے۔

سید محمد زاہد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
سید محمد زاہد کا ایک اردو کالم