چین ہے دل کو میسّر، بے کلی اپنی جگہ
بِھیڑ ہے احباب کی، تیری کمی اپنی جگہ
تِتلِیوں کا رقص ہے صحنِ سُخن میں آج بھی
مجھ پہ ہے جو مہرباں شعری پری اپنی جگہ
خامشی سے ساکِت و جامَد کھڑے ہیں سائے سب
سحر طاری کر چکی ہے چاندنی اپنی جگہ
شعر کہنے کے لئے لازم نہیں عاشق بھی ہوں
عاشقی اپنی جگہ ہے، شاعری اپنی جگہ
چاندنی ہو، آبِجُو ہو، تُو مِری بانہوں میں ہو
خواہشیں اپنی جگہ ہیں، بےبسی اپنی جگہ
اِک طرف زورِ بیاں ہے، اِک طرف آنکھیں تِری
شاعری اپنی جگہ ہے، ساحری اپنی جگہ
ماں مِری پہلی محبّت، تُو ہے شاید آخری
اوّلیں تو اوّلیں ہے، آخری اپنی جگہ
عُظمی جٙون








