آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ولی دکنی اُردو غزل کا باوا آدم ؟

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

ولی دکنی کو اردو شاعری کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔ یہ لقب سننے میں جتنا دلکش ہے اتنا ہی سوال طلب بھی۔ سوال یہ نہیں کہ ولی بڑے شاعر تھے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اردو غزل کی ابتدا واقعی ولی سے ہوتی ہے یا اس سے پہلے بھی یہ چراغ جل چکا تھا۔ یہی سوال ہماری ادبی روایت میں برسوں سے گردش کر رہا ہے اور اسی سوال نے ولی کو تحقیق اور تنقید کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

ایک زمانے تک یہ بات تقریباً طے شدہ سمجھی جاتی رہی کہ اردو غزل کا آغاز ولی دکنی سے ہوا۔ نصابی کتابوں سے لے کر ادبی نشستوں تک، ولی کو پہلا غزل گو قرار دیا جاتا رہا۔ لیکن وقت کے ساتھ تحقیق نے یہ تصویر بدل دی۔ یہ بات سامنے آئی کہ ولی سے پہلے بھی اردو غزل کے نقوش موجود تھے۔ امیر خسرو، قلی قطب شاہ، میراں ہاشمی اور دیگر شعرا کے ہاں غزل کی شکل میں اشعار ملتے ہیں۔ ڈاکٹر وحید قریشی واضح طور پر لکھتے ہیں کہ ولی سے پہلے کم از کم غزل کے دو ادوار گزر چکے تھے اور ان ادوار کے شعری نمونے بھی دستیاب ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ولی پہلے غزل گو نہیں تھے تو پھر انہیں اردو شاعری کا باوا آدم کیوں کہا گیا۔ اس سوال کا جواب محض تاریخ میں نہیں بلکہ اسلوب اور تاثیر میں پوشیدہ ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد نے آب حیات میں ولی کے بارے میں جو رائے دی وہ محض ایک تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک جمالیاتی تاثر ہے۔ آزاد کے نزدیک ولی وہ شاعر ہیں جن کے ہاں اردو شاعری پہلی مرتبہ ایک واضح، مکمل اور پختہ صورت میں جلوہ گر ہوئی۔

یہ ماننا پڑے گا کہ ولی سے پہلے اردو شاعری موجود تھی، مگر بکھری ہوئی، غیر منظم اور محدود دائرے میں۔ ولی نے پہلی بار اردو غزل کو ایک شناخت دی، ایک اسلوب عطا کیا اور اسے شمالی ہند تک متعارف کرایا۔ یہی وہ کارنامہ ہے جس کی بنیاد پر انہیں اولیت کا تاج پہنایا گیا۔ اگر باوا آدم کا مفہوم آغاز کی پہلی لکیر کھینچنے والا نہیں بلکہ روایت کو جاندار شکل دینے والا مان لیا جائے تو ولی اس لقب کے پورے حق دار نظر آتے ہیں۔

ولی دکنی کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو ان کا جمالیاتی شعور ہے۔ وہ جمال دوست شاعر ہیں۔ ان کے ہاں حسن محض جسمانی کشش نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ ہے۔ وہ حسن کو دیکھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں اور قاری کو بھی اس تجربے میں شریک کر لیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں سرمستی، وارفتگی اور زندگی سے محبت کی جھلک نمایاں ہے۔

نکل اے دلربا گھر سوں کہ وقت بے حجابی ہے چمن میں چل بہار نسترن ہے ماہتابی کا

یہاں حسن صرف محبوب تک محدود نہیں رہتا بلکہ فطرت، موسم اور کائنات کے حسن میں ڈھل جاتا ہے۔ ولی کے ہاں زندگی کے تاریک پہلو کم اور روشن مناظر زیادہ ہیں۔ پھول، چاندنی، سبزہ زار، بہتا پانی اور کھلا آسمان ان کی شاعری کا مستقل حوالہ ہیں۔

ولی کی ایک بڑی فنی خوبی سراپا نگاری ہے۔ انہوں نے محبوب کے خدوخال کو جس تفصیل، نرمی اور تخیل کے ساتھ بیان کیا، وہ اردو شاعری میں ایک مثال بن گیا۔ ان کا محبوب روایتی بے وفا یا ظالم کردار نہیں بلکہ ایک باحیا، شریف اور دلکش وجود رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ولی کا محبوب قاری کو اجنبی نہیں لگتا بلکہ اپنا سا محسوس ہوتا ہے۔

تشبیہات اور استعارات کے استعمال میں بھی ولی کو امتیازی مقام حاصل ہے۔ ان کی تشبیہیں نہ صرف خوبصورت ہیں بلکہ معنی خیز بھی۔ زلف کو شام غریباں کہنا، جبیں کو صبح وطن کہنا یا دل کے داغ کو دیدہ سمندر قرار دینا محض لفظی کرتب نہیں بلکہ تخلیقی ذہن کی روشن دلیل ہے۔

ولی کی غزل میں سوز و گداز بھی ہے مگر میر کی طرح شدت اور کرب کے ساتھ نہیں۔ ولی کے ہاں ہجر بھی جمالیاتی لذت میں ڈھلا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان کے دکھ میں بھی نرمی ہے، شکایت میں بھی حسن کی جھلک ہے۔ یہی اعتدال ان کی شاعری کو دل آویز بناتا ہے۔

زبان کے اعتبار سے ولی نے اردو غزل کو ایک نیا آہنگ دیا۔ مقامی ہندی الفاظ اور فارسی تراکیب کے حسین امتزاج نے ان کی زبان کو سلیس، شگفتہ اور رواں بنا دیا۔ یہی زبان آگے چل کر میر، سودا اور دیگر بڑے شعرا کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ولی دکنی اردو غزل کے موجد نہیں تھے، مگر وہ اس کے معمار ضرور تھے۔ انہوں نے اس صنف کو وہ وقار، روانی اور جمال عطا کیا جس کے بعد آنے والی نسلوں نے اسی بنیاد پر اپنی عمارتیں تعمیر کیں۔ میر تقی میر جیسے عظیم شاعر خود اس حقیقت کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں کہ ولی نے دکن سے دہلی تک اردو غزل کی فضا بدل دی۔ میر کا یہ مشہور شعر اسی حقیقت کا اعتراف ہے:

خوگر نہیں کچھ یونہی ہم ریختہ گوئی کے
معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا

یہ شعر محض ایک ادبی حوالہ نہیں بلکہ اس تاریخی عمل کی علامت ہے جس میں دکن کی شعری روایت دہلی پہنچی اور وہاں ایک نئی روح کے ساتھ فروغ پائی۔ اگر اردو شاعری کی روایت کو ایک درخت سمجھا جائے تو اس کی جڑیں یقیناً امیر خسرو تک جاتی ہیں، مگر اس درخت کو تناور بنانے والا، اس میں بہار بھرنے والا اور اسے عوامی ذوق سے ہم آہنگ کرنے والا ہاتھ ولی دکنی کا ہی ہے۔ اسی معنوی اور فنی اعتبار سے ولی دکنی کو اردو غزل کا باوا آدم کہنا نہ صرف درست بلکہ ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button