اردو غزلیاتجیوتی آزاد کھتریشعر و شاعری

زمیں ہے مری آسمانی نہیں ہوں

جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل

زمیں ہے مری آسمانی نہیں ہوں

فقط ایک قصہ کہانی نہیں ہوں

ندی کی طرح بہتی اپنی حدوں میں

سمندر کی کوئی روانی نہیں ہوں

نہ کر کھیلنے کی تو گستاخی مجھ سے

میں اک آگ ہوں کوئی پانی نہیں ہوں

کئی مجھ میں کردار سانسیں ہیں لیتے

کہانی میں ہوں زندگانی نہیں ہوں

اماوس نہ پونم سے مجھ کو غرض ہے

مہکتی ہوئی رات رانی نہیں ہوں

میں جیسی تھی کل ہوں وہی آج بھی میں

بدلتی رتوں کی نشانی نہیں ہوں

جیوتی آزاد

ज़मीं है मिरी आसमानी नहीं हूँ

फ़क़त एक क़िस्सा कहानी नहीं हूँ

नदी की तरह बहती अपनी हदों में

समुंदर की कोई रवानी नहीं हूँ

न कर खेलने की तू गुस्ताख़ी मुझ से

मैं इक आग हूँ कोई पानी नहीं हूँ

कई मुझ में किरदार साँसें हैं लेते

कहानी में हूँ ज़िंदगानी नहीं हूँ

अमावस न पूनम से मुझ को ग़रज़ है

महकती हुई रात-रानी नहीं हूँ

मैं जैसी थी कल हूँ वही आज भी मैं

बदलती रुतों की निशानी नहीं हूँ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button