اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر حسن

قیامت مجھ پہ سب اس کا

اردو غزل از میر حسن

قیامت مجھ پہ سب اس کا ترحم اور تظلم تھا
کبھی تھیں گالیاں منھ پر کبھی لب پر تبسم تھا

یہ سب اپنے خیالِ خام تھے تم تھے پرے سب سے
جو کچھ سمجھے تھے ہم تم کو یہ سب اپنا توہّم تھا

اب اُلٹے ہم ہی اِس کے حکم میں رہنے لگے ناصح
وہ دفتر ہی گیا جو اپنا اِس دل پر تحکم تھا

تمھیں بھی یاد آتے ہیں کبھی وے دن کہ کوئی دن
ہمارے حال پر کیا کیا تفضّل اور ترحّم تھا

شب اُس مطرب پسر کے یاں حسن تھی زور ہی صحبت
اِدھر تو نالۂ دل تھا اُدھر اس کا ترنم تھا

میر حسن

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button