اردو شاعریاردو نظمپروین شاکر

پوربی پردیسی کب آؤ گے؟

پروین شاکر کی ایک اردو نظم

پوربی پردیسی کب آؤ گے؟

نذر حضرت امیر خسرو

سُورج ڈوبا شام ہو گئی
تن میں چنبیلی پھُولی،
من میں آگ لگانے والے
میں کب تجھ کو بھُولی
کب تک آنکھ چراؤ گے؟
پردیسی ، کب آؤ گے؟
سانجھ کی چھاؤں میں تیری چھایا
ڈھونڈتی جائے داسی
بھرے ماگھ میں کھوجے تجھ کو
تن درشن کی پیاسی
جیون بھر ترساؤگے
پردیسی کب آؤ گے؟
بھیروں ٹھاٹھ نے انگ بتایا
وادی سُر___گندھار
سموا دی کو نکھاد رنگ دے
شدھ مدھم سنگھار
تم کب تلک لگاؤ گے؟
پردیسی ،کب آؤ گے؟
ہاتھ کا پھُول ، گلے کی مالا
مانگ کا سُرخ سیندور
سب کے رنگ ہیں پھیکے پرانے
ساجن جب تک دُور
روپ نہ میرا سجاؤ گے؟
پردیسی ، کب آؤ گے؟
ہر آہٹ پر کھڑکی کھولی
ہر دستک پر آنکھ
چاند نہ میرے آنگن اترا
سپنے ہو گئے راکھ
ساری عمر جلاؤ گے؟
پردیسی ، کب آؤ گے؟

پروین شاکر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button