آپ کا سلاماردو غزلیاتحارث بلالشعر و شاعری

گوشے گوشے پہ کوئی نقشِ قدم بنتا ہے

حارث بلال کی ایک اردو غزل

گوشے گوشے پہ کوئی نقشِ قدم بنتا ہے
بنتے بنتے کسی رستے کا بھرم بنتا ہے

کہیں اشکوں کے ذخیرے سے اُبھر آتی ہے آنکھ
کوئی مجموعہِ الفاظ قلم بنتا ہے

جس طرح رکھا گیا تھا مرا دل سینے میں
اب محلات میں شاہوں کا حرم بنتا ہے

بیج گملوں میں کبھی پیڑ نہیں بن پاتا
دکھ ترے ہجر میں آتا ہے تو غم بنتا ہے

میرے نیندوں میں جگہ ڈھونڈنے والے مرےدوست!
نم کسی آنکھ میں ہوتا نہیں، نم بنتا ہے

تیری خوشبو سے ترے شہر کا نقشہ سمجھا
اس حوالے سے مرا فاصلہ کم بنتا ہے

حارث بلال 

post bar salamurdu

حارث بلال

حارث بلال 1993دسمبر میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2014 میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ "ہم شجر" نومبر 2025 میں شائع ہو چکا ہے۔ تعلیمی حوالے سے ایم فل کی ڈگری لمز یونیورسٹی لاہور سے حاصل کر چکے ہیں اور گولڈ میڈل کے حامل ہیں۔ تا حال وہ نمل یونیورسٹی میانوالی میں اسسٹنٹ رجسٹرار کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button