آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمز

حکومت، حکمراں اور طریقۂ حکمرانی

ایک اردو تحریر از ابو خالد قاسمی

تحفہ الیکشن

آزادی انسان کے لیے ایک عظیم نعمت اور بے بہا سرمایہ ہے۔ ہر انسان رحمِ مادر سے آزاد پیدا ہوتا ہے، اسی لیے آزادی اس کی فطرت اور سرشت میں شامل ہے۔ یہی آزادی کا احساس انسان کے اندر خودداری، خود اعتمادی اور اپنی ذات کی تکمیل کے جذبات کو بیدار کرتا ہے۔
لیکن جب یہی آزادی حد سے تجاوز کر جائے، یا اس کو غیر فطری طور پر دبانے کی کوشش کی جائے، تو اس کے نتیجے میں بغاوت، خودسری اور حیوانیت جیسے اوصاف پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ایسے حالات میں انسان اپنی حدود سے تجاوز تو کرتا ہی ہے بلکہ دوسروں کی آزادی کو بھی پامال کرنے لگتا ہے۔ جب اس طرح کے افراد کی کثرت ہو جائے تو معاشرہ انتشار، تصادم اور انارکی کا شکار ہو جاتا ہے، اور بسا اوقات قتل و خون کے ہولناک مناظر بھی سامنے آتے ہیں۔
تاہم انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے مدنی الطبع ہے؛ اسی لیے آغازِ آفرینش سے وہ اپنی آزادی کے باوجود کسی نہ کسی نظام اور قیادت کے تحت زندگی گزارتا آیا ہے۔ ایک منظم حکومت کے ذریعے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور بقائے باہم کے اصول پر عمل کرتے ہوئے پرامن زندگی بسر کرتا ہے۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں حکمرانی کے مختلف طریقے رائج رہے:
کبھی شخصی حکومت
کبھی ملوکیت (خاندانی نظام)
کبھی استبدادی نظام
اور کبھی جمہوری طرزِ حکومت
بدقسمتی سے تاریخ کے اکثر ادوار میں ایسے حکمران غالب رہے جنہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی خدائی دعوے شروع کیے اور عوام کو اپنا غلام بنا کر ان سے اپنی بندگی کروائی۔
اس موضوع کی مزید تفصیل ہماری کتاب "اسلامی حقوق” میں مذکور ہے۔

ووٹ کی شرعی حیثیت
"ووٹ” (Vote) انگریزی زبان کا لفظ ہے، جس کا عربی متبادل "انتخاب” یا "تصویت” ہے، جبکہ اردو میں اس کا مفہوم ہے:
نمائندہ منتخب کرنا یا حقِ رائے دہی کا استعمال۔
جمہوری نظام میں پارلیمنٹ، اسمبلی، بلدیہ وغیرہ کے لیے نمائندوں کا انتخاب ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ اصطلاح عہدِ سلف میں موجود نہ تھی، اس لیے قرآن و حدیث میں اس کا لفظی ذکر نہیں ملتا، لیکن اس کے اصولی اور معنوی پہلو شریعت میں واضح طور پر موجود ہیں۔

شرعی اعتبار سے ووٹ کی متعدد حیثیتیں ہیں:
(١) شہادت (گواہی)
شہادت کا مفہوم ہے: قَوْلٌ صَادِرٌ عَنْ عِلْمٍ حَصَلَ بِمُشَاھَدَةِ بَصَرٍ أوْ بَصِیْرَةٍ.
(راغب، جرجانی)
یعنی علم اور بصیرت کی بنیاد پر کسی چیز کے حق ہونے کی گواہی دینا۔
اسی طرح ووٹر جب ووٹ دیتا ہے تو درحقیقت وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ: یہ امیدوار اس عہدے کے لیے اہل، موزوں اور "قوی و امین” ہے۔
(٢) سفارش
ووٹ ایک طرح کی سفارش بھی ہے، یعنی ووٹر درحقیقت یہ کہتا ہے کہ: یہ شخص اس منصب کا مستحق ہے، لہٰذا اسے منتخب کیا جائے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے: مَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَکُنْ لَہ نَصِیْبٌ مِنْھَا وَمَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَکُنْ لَہ کِفْلٌ مِنْھَا
(النساء: 85)
جو اچھی سفارش کرے گا اسے اس میں حصہ ملے گا، اور جو بری سفارش کرے گا وہ اس کے گناہ میں شریک ہوگا۔
لہٰذا:
اچھے امیدوار کو ووٹ دینا = اجر
غلط امیدوار کو ووٹ دینا = گناہ ہے ۔
(٣) وکالت (نمایندگی)
ووٹ کی ایک حیثیت وکالت کی بھی ہے۔ یعنی ووٹر کسی کو اپنا نمائندہ بنا کر:
حکومتی امور
قانون سازی
اور عوامی فیصلوں کے لیے اختیار دیتا ہے۔
اگر منتخب نمائندہ ظلم کرے تو ووٹر بھی کسی حد تک اس میں شریک ہوگا، اور اگر وہ بھلائی کرے تو اس میں بھی حصہ دار ہوگا۔

اگرچہ ووٹ میں تینوں حیثیتیں پائی جاتی ہیں، لیکن اس میں شہادت (گواہی) کا پہلو غالب ہے، اس لیے ووٹ کو شرعی طور پر ایک اہم ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔

ووٹ دینے کا شرعی حکم
ہندوستان کے آئین نے ہر شہری کو ووٹ دینے اور انتخابی عمل میں حصہ لینے کا حق دیا ہے ۔ ( دیکھیں: بھارت کا آئین، ص 80)۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک
مسلمان کے لیے ووٹ دینا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟
اس کا جواب حالات کے مطابق مختلف ہے:
کبھی جائز
کبھی مستحب
اور کبھی واجب
موجودہ حالات میں ہندوستان جیسے ممالک میں: ووٹ دینا "واجب لغیرہ” ہے
کیوں؟
کیونکہ: مَا لاَ یَتِمُّ الْوَاجِبُ إِلَّا بِہ فَہُوَ وَاجِبٌ۔
(الاشباہ والنظائر، ابن نجیم: ٩١)
یعنی جس چیز کے بغیر واجب مکمل نہ ہو، وہ بھی واجب ہو جاتی ہے۔

مسلم دشمن پارٹیوں میں شرکت
جو پارٹیاں کھلے طور پر
اسلام کی مخالفت کرتی ہیں
مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتی ہیں ایسی پارٹیوں میں شامل ہونا یا ان کی حمایت کرنا جائز نہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
لاَ تَرْکَنُوا إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ
(ہود: 113)
یَا أیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاءَ
(الممتحنہ: 1)
یہ آیات واضح طور پر ظالم اور دین کے دشمنوں کی طرف جھکاؤ سے منع کرتی ہیں۔

ووٹ کس کو دیا جائے؟
ووٹ دیتے وقت درج ذیل اصولوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے:
١. اہلیت اور دیانت
ایسے شخص کو منتخب کریں جو امانت دار ہو، ذمہ دار ہو، علاقے کے لیے مفید ہو
٢. حالات کا لحاظ ، اگر حالات پرامن ہوں، شخصیت کو دیکھیں، اگر حالات خراب ہوں، مجموعی نظام اور پارٹی کو دیکھیں
٣. جمہوریت اور توازن
ایسی جماعت کو ترجیح دی جائے جو: انصاف پسند ہو، یک طرفہ نہ ہو، سب کے حقوق کا احترام کرے
٤. مذہبی احترام
ایسی پارٹی کو ہرگز منتخب نہ کریں جو کسی بھی مذہب کی توہین کرے، نفرت اور تعصب کو فروغ دے خصوصاً اسلام دشمن قوتوں سے مکمل اجتناب ضروری ہے

صحیح امیدوار کا انتخاب اجر کا سبب اور غلط انتخاب گناہ کا سبب بن سکتا ہے
ووٹ دیتے وقت دین، دیانت اور اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پیسے لے کر ووٹ ڈالنا گناہ ہے ، البتہ اگر کسی لیڈر کا ساتھ دیا تو اس عمل کی اجرت کی بناء پر پیسے لے سکتے ہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں! واللہ اعلم ۔

ابو خالد قاسمی
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ غازی آباد ۔

post bar salamurdu

ابو خالد

نام ابو خالد، ولدیت ناظر الدین ۔ آسام ہندوستان سے تعلق ہے ۔ تعلیم: مادر علمی دار العلوم دیوبند سے حاصل کیا ۔ عمر ۔ ٢٥ سال ۔ احقر کے قلم سے بحمد اللہ قریب دس کتابیں منظر عام پر آئی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button