اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

جور کیا کیا جفائیں کیا کیا ہیں

میر تقی میر کی ایک غزل

جور کیا کیا جفائیں کیا کیا ہیں
عاشقی میں بلائیں کیا کیا ہیں

خوب رو ہی فقط نہیں وہ شوخ
حسن کیا کیا ادائیں کیا کیا ہیں

فکر تعمیر دل کسو کو نہیں
ایسی ویسی بنائیں کیا کیا ہیں

گہ نسیم و صبا ہے گاہ سموم
اس چمن میں ہوائیں کیا کیا ہیں

شور ہے ترک شیخ کا لیکن
چپکے چپکے دعائیں کیا کیا ہیں

منظر دیدہ قصر دل اے میر
شہر تن میں بھی جائیں کیا کیا ہیں

میر تقی میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button