آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکرن منتہیٰ

خواب ہے خواب ہی ہو

کرن منتہیٰ کی ایک اردو غزل

خواب ہے خواب ہی ہو ، چہرۂ تصویر نہ ہو
داستاں گو مرے اِس زخم کی تشہیر نہ ہو

یوں نہ ہو جائے کہ تمثیلِ قبا ہو جاؤں
اس تکلف سے مرے ساتھ بغل گیر نہ ہو

یوں نکالا ہے مجھے دل کے صنم خانے سے
جیسے صحرا میں بھٹکتا ہوا رہگیر نہ ہو

آہوئے شہر کو دیکھا کرو نخچیر لیے
جیسے آنکھوں میں ہمہ وقت کوئی تیر نہ ہو

سسی بھی رل گئی صحراؤں میں پنوں کے لیے
دیکھنا آتے ہوئے تم کو بھی تاخیر نہ ہو

گھر کی دہلیز پہ ہجرت نے قدم رکھا ہے
کچھ بھی ہو جائے مرے جذبے کی تحقیر نہ ہو

آنکھ میں حیرتی بُو ہے نہ کوئی خوابِ سفر
جیسے زندان میں رہتے ہوئے زنجیر نہ ہو

ڈھونڈ کے لاؤ کوئی رانجھااسی وقت یہاں
جنگ سے بھاگی ہوئی لڑکی کہیں ہیر نہ ہو

لوگ آسانی سے اس سر کو جھکا دیتے ہیں
ڈھانپنے کے لیے جس سر کو کوئی ویر نہ ہو

اور اک بار ترے در پہ کوئی آیا ہے
غور سے دیکھ کرن جوہرِ تقدیر نہ ہو

کرن منتہیٰ

post bar salamurdu

کرن منتہیٰ

کرن منتہیٰ کا تعلق خوشاب سے ہے نسائی لہجے کی توانا شاعرہ ہیں لاہور میں مقیم ہیں جہاں ایک ٹی وی پر اینکر ہیں نوجوان نسل کی نمائندہ شاعرہ ہیں کرن منتہیٰ نے اپنی شاعری اور خوبصورت ادائی سے اپنے ہونے کا بہت توانا اعلان کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button