- Advertisement -

کیوں گفتگو میں لہجہ_تر لگ نہیں رہا

منیر انجم کی ایک اردو غزل

کیوں گفتگو میں لہجہ_تر لگ نہیں رہا
باتوں میں تیری آج اثر لگ نہیں رہا

دو چار میل میں تری جانب چلوں مگر
دو چار میل کا یہ سفر لگ نہیں رہا

خون_جگر پلا دیا اُس کو مگر ابھی
جیسا میں چاہتا ہوں شجر لگ نہیں رہا

جب سے مکین_قلب نے چھوڑا ہے اپنا گھر
دل مثل_ریگ زار ہے گھر لگ نہیں رہا

میں خوبرو جوان تھا یہ مانئیے جناب
تصویر دیکھ لیجئے گر لگ نہیں رہا

تیرے بغیر شہر میں ہر ایک سے منیر
میں دل لگا رہا ہوں مگر لگ نہیں رہا

منیر انجم منیر

  1. عمر علی عمر کہتے ہیں

    بہت جیو یارا اللہ پاک مزید کامیابیوں سے نوازے تم کو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
منیر انجم کی ایک اردو غزل