- Advertisement -

گل کے پردے میں ہے کیا معلوم نہیں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

گل کے پردے میں ہے کیا معلوم نہیں
شعلہ صرصر ہے کہ صبا معلوم نہیں

کس کا ہاتھ ہے کس مہرے پہ کیا جانیں
کون اور کیسی چال چلا معلوم نہیں

ہم نے خون میں لت پت گلشن دیکھا ہے
کس جانب سے شور اٹھا معلوم نہیں

ہم ہیں اور اندھیری رات کا ہنگامہ
کس کا کس پر وار پڑا معلوم نہیں

جانے کیا مستی میں اس نے بات کہی
نشے میں کیا ہم نے سنا معلوم نہیں

لحظہ لحظہ دوری بڑھتی جاتی ہے
کل کا انساں کیا ہو گا معلوم نہیں

ہر چہرے کے پیچھے کتنے چہرے ہیں
کون ہمیں کس وقت ملا معلوم نہیں

قدموں کی آہٹ پر کان رہے اپنے
کون آیا اور کون گیا معلوم نہیں

ہوش آیا تو تاریکی میں تھے باقیؔ
کتنی دیر چراغ جلا معلوم نہیں

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل