آپ کا سلاماردو مزاحیہ تحاریرواجد علی گوہر

سگنل

ایک مزاحیہ تحریر از واجد علی گوہر

” بھائی جان! ہیلمٹ لیتے جائیں۔ فائن ہوجائے گا ” یہ آواز میری بہن کی تھی جو مجھے ہیلمٹ پہننے کی تلقین میں اپنا فضول وقت ضائع کرر رہی تھی ، مگر میں نے اُسے یہ کہہ کر روک دیا،” ہونہہ۔ ہیلمٹ ۔ ابے جا پگلی ۔ میں پاکستان میں رہتا ہوں کوئی یورپ میں نہیں رہتا جو پولیس میرا فائن کردے گی ” اور گھر سے موٹر سائیکل کو کک مار کے نکل گیا۔ میں اپنی بہن کے الفاظ اور سادگی پر دل ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ اس نے تو آج بالکل میرےhalmet دوستوں والی بات کردی ہے۔میرے یار دوست جو اکثر بیرونی ممالک میں مقیم ہیں اُن سے جب بھی فون پر بات ہوتی ہے یا بالمشافہ ملاقات کا موقع ملتا ہے ، ایک دکھ مشترک سُننے کو ملتا ہے ” بھائی ! اس بار تین ہزار پاؤنڈ تو ٹریفک کا فائن بھر کے آیا ہوں۔ ارے صاحب! کیا پوچھتے ہو ادھر گاڑی چلاتے ہوئے تھوڑی غلطی ہوئی نہیں کہ اُدھر جرمانے کی رسید ملی نہیں۔ بس بھائی! تمہاری تو موجیں لگی ہیں موجیں۔ پاکستان نہیں جنت میں رہ رہے ہو۔ کبھی ادھر آؤ تو لگ پتہ جائے” وغیرہ وغیرہ۔ سچ پوچھیے تو مجھے ایسی خبریں سُن کر اندر سے ایک عجب سی خوشی محسوس ہوتی جو پاکستان سے باہر نہ جاسکنے کے دکھ پر مرہم کا کام دیتی۔ میں اکثر اپنے دوستوں کو بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے یا اشارہ توڑ کے وکٹری کا نشان بنانے کی ویڈیوز بنا کر بھیجتا رہتا تھا تاکہ اُن کا کلیجہ جلتا رہے اور میرااُن کی آہیں سُن کر ٹھنڈا ہوتا رہے۔ میں اس قانون شکن زندگی سے لطف اٹھاتا خزاں میں بہار کے گیت گارہا تھا اور زندگی کی تمام مسرتوں سے فائدہ اٹھا رہا تھا کہ اچانک کسی دشمن یا زیادہ قرینِ قیاس کسی دوست کی نظر لگ گئی اور سب کچھ یوں بدل گیا جیسے انقلاب آکر ملکوں کے نقشے اور عوام کے حالات بدل دیتا ہے۔
میں نے اپنی زندگی سے ٹی وی کو بیس سال پہلے تین طلاق دے کر یوں خارج کردیا تھا کہ اب ٹی وی تو درکنار کسی سیاسی یوٹیوب چینل کو بھی نہیں سنتاجس کی وجہ سے میری دماغی اور جسمانی صحت عام اوسط پاکستانی سے قدرے پانچ فیصد بہتر ہے ۔ میرے نزدیک پاکستان میں بلڈ پریشر، شوگر، ہارٹ اٹیک اور خود کشی کی سب سے بڑی وجہ یہ سیاسی خبریں اور سیاسی ٹاک شوز ہیں جن کو فورا بند کرکے اُن کی جگہ دیگر مفید پروگرام جیسے جوڑوں میں بیٹھنے کا چلہ اور اُس کے ورد ، دماغ کی دہی بنانے کے طریقے، بٹیر بازی کے میچ پر جوا لگانے کا صحیح وقت معلوم کرنے کا زائچہ بنانا اور گھریلو موٹر ائینڈنگ کورس وغیرہ شروع کردیے جائیں تاکہ ہمارے بچے اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر یورپ امریکہ اور چائنا کی تیز رفتار ترقی کا مقابلہ کرسکیں۔signal جی تو صاحب! میں عرض کر رہا تھا کہ کیونکہ میں دماغی اور جسمانی صحت کو بہتر رکھنے کیلئے سماجی روابط کی ویب سائیٹس اور ٹی وی سے کوسوں دور ہوں لیکن یہ دوری ایک دن مالی نقصان کی صورت میں سامنے آئے گی اس کا اندازہ بالکل نہیں تھا۔
میں اپنی دھن میں موٹر سائیکل چلاتا اُس چیک پوسٹ پر جب پہنچا جہاں ہمیشہ وارڈن صاحب کے پاس سے ون ویلنگ کرکے اُن کی بے بسی پر قہقہہ لگاتے گزرتا تھا تو خلافِ معمول ناکہ لگا ہوا دیکھا جس کا فرنٹ مورچہ اُنہی وارڈن صاحب نے سنبھالا ہوا تھا۔ میں نے اچانک جو بریک لگائی تو سیدھا اُن کے قدموں پر گرتے گرتے بچا۔اُنہوں نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے پوچھا،” سنا پھر کاکا۔ کیا حال ہے؟”۔ اُن کے چہرے پر جو خاص شیطانی اور وحشیانہ سی مسکراہٹ دیکھی تو دل نے یہی کہا،” آج انداز بدلے بدلے سے کیوں ہیں ساجن کے”۔ساجن کے بگڑے اندازوں کا اُس وقت پتہ چلا جب اُنہوں نے پوچھا،” بلو! ہیلمٹ کدھر ہے تیرا”۔ اُن کی بات سُن کر بہن کے وہ الفاظ کانوں میں گونجنا شروع ہوگئے،” بھائی جان ہیلمٹ لیتے جائیں۔ فائن ہوجائے گا”۔
” جی وہ اصل میں مجھے سانس کی دائمی بیماری ہے۔ ڈاکٹر نے ہیلمٹ پہننے سے منع کر رکھا ہے۔ ورنہ گھر میں پڑا ہوا ہے ۔ بالکل نیا ہیلمٹ”۔ میں نے اپنی دانست میں بہت ہی عمدہ بہانہ تراشا تھا جس کے بعد مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے ” خصوصی طبی استثنیٰ” دے کر جانے دے گا مگر وہ خواب ہی کیا جن کی تعبیر مل جائے۔” باؤ! کوئی بات نہیں۔ وہ بڑے ڈاکٹر صاحب کھڑے ہیں وہ ایک ہی نسخہ دیں گے انشاء اللہ سانس کے ساتھ ساتھ باقی بیماریاں بھی جڑ سے ختم ہوجائیں گی”۔ اُس نے ایک نہایت موٹے بھائی صاحب کی طرف اشارہ کیا جن کو دیکھ کر پہلا خیال یہی آیا کہ ان کے جنازے کو اٹھائے گا کون۔ مگر یہ سب مستقبل بعید کی باتیں تھیں اور مجھے صیغہ حال میں رہتے ہوئے اُن سے ملاقات کرنی تھی۔ میں اُن کے پاس گیا پوری سنجیدگی سے سلام کیا اور خود سے کہہ دیا کہ جی وہ سانس کی بیماری ہے۔ اُنہوں نے نہایت مشفقانہ انداز میں مجھے دیکھا پھر کچھ سوچا اور اُس کے بعد بیاض کا صفحہ کھول کر میرا نام پتہ حلیہ شناخت وغیرہ سب نوٹ کرکے نہایت چابکدستی سے وہ صفحہ پھاڑا اور میرے حوالے کیا جس پر درج جرمانے کو دیکھ کر میری تو سانس اکھڑ گئی۔قصہ مختصر میں اُن سے رسید لیکر نکلا اور جب واپس موٹر سائیکل کو کک ماری تو وہی وارڈن صاحب بولے،” سناؤ پھر ملی سانس کی پھکی؟”۔ میں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور بوجھل دل کے ساتھ پہلے بازار سے ہیلمٹ لیا، پھر جرمانہ جمع کروایا اور آخر منہ لٹکائے گھر لوٹ آیا۔اُس کے بعد ہیلمٹ اور میں یک جان دو قالب ہوگئے گویا ہیلمٹ میرے لئے ایسے ہوگیا جیسے رانجھے کیلئے ہیر اور سسی کیلئے پنوں۔
ایک دن مگر میرے جی نے ٹھانی کہ چلو آج اتوار کاا دن ہے تو کیوں نا اشارہ توڑ کر بھاگنے کی دم توڑتی روایت کااحیاء کیا جائے۔ یہ سوچ دماغ میں آنے کی دیر تھی کہ ابا جان سے منت کرکے گاڑی لی اور اپنے مقرر کردہ راستوں سے پوری ایمانداری کے ساتھ اشارے توڑتا ہوا پولیس کی سادگی پہ ہنستا ہوا اور اشارے پہ رک کر اشارہ کھلنے کے انتظار میں رکنے والوں کی سادگی پر چار حرف بھیجتا ہواشہر بھر کی آوارہ گردی کرنے کے بعد جب گھر پہنچا تو دروازے پر ابا جان قدس اللہ سرہ دام اقبالہ وہ چھڑی اٹھائے میرے استقبال کیلئے کھڑے تھے جس سے مجھے میٹرک تک باقاعدگی سے وہ سیدھا کرتے رہے ہیں۔ وہ چھڑی جس کا نام والد ماجد نے ” ہدایت بخش” تفویض فرما رکھا تھا اُسے دیکھتے ہی میرے اوسان خطا ہوگئے کہ ایسی کون سی قیامت ٹوٹ پڑی جو گوشہ گمنای میں پڑا ” ہدایت بخش” ایک مرتبہ پھر منظرِ عام پر نمودار ہوگیا ہے۔اُن کی آنکھوں سے نکلتے سرخ سگنلز بتا رہے تھے کہ آج سگنل سگنل کا میچ ہونے والا ہے۔ میں گھر آیا گاڑی کو اپنی مقرر کردہ جگہ پر پارک کیا اور پھر ہدایت حاصل کرنے کیلئے ” ہدایت بخش” کے پاس پہنچ گیا۔ قبلہ حضور کو سلام کیا اُنہوں نے جواب میں بس اتنا کہا ،” کتنے سگنل توڑ کے آیا ہے؟”، اور پھر ” ہدایت بخش” کے ساتھ سلامتی کی ڈھیروں دعائیں دے کر مجھے کمرے تک رخصت کیا ۔ میں کمرے میں سیدھا جاکر پلنگ پر ڈھیر ہوگیا اورپھر مجھے کچھ یاد نہ رہا کہ ” ہدایت بخش” کا جادو جسم کے کون کون سے حصے پر چلا ہے۔ اگلی صبح جب نیند آور ” ہدایت بخش” کا اثر ختم ہوا تو اُس وقت انگ انگ دکھ رہا تھا اور ہر سانس ” اوئی اللہ جی۔ اوئی اللہ جی” پکار رہی تھی۔ میری والدہ اور بہن صاحبہ میرے پاس آئیں اور یہ خوشخبری سنا ئی کہ کل جو ٹریفک سگنلز توڑنے پر فائن کے میسجز قبلہ والد جان مدظلہ العالی کو ملے ہیں اُن کو ادا کرنے کا اب یہی ایک طریقہ ہے کہ ہم گاڑی بیچ دیں سو آج وہ گاڑی بیچنے چلے گئے ہیں تاکہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گا سگنل، مم میرا مطلب بانسری۔

post bar salamurdu

واجد علی گوہر

واجد علی گوہر جو خط لکھنے کی مردہ روایت کے احیاء کا متمنی ہے اور پطرس بخاری کے مذاق تحریر کو جدت دینا چاہتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button