آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر نعمان رفیع

گڈ ڈیڈ،بیڈ ڈیڈ

ڈاکٹر نعمان رفیع کا ایک اردو کالم

ماں یا باپ بننا ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر انسان کے لیے منفرد ہوتا ہے دنیا کی کسی یونیورسٹی میں ایسا کوئی کورس نہیں کرایا جاتاجو ہمیں بتائے کہ ہم اچھے والدین کیسے بن سکتے ہیں لیکن چند رہنما اصول ہمیں اپنے بزرگوں سے سیکھنے کو مل سکتے ہیں کتابوں میں پڑھے جا سکتے ہیں،مشاہدے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر ایک انسان کا تجربہ بہت سے حوالوں سے دوسروں سے الگ ہی ہو گاآپ کو ہر ایک سوال کا جواب کہیں نہیں ملے گا نہ دنیاوی علوم میں اور نہ دینوی صحائف میں۔اسلام میں اولاد کی تربیت کے حوالے سے بہت کچھ ملتا ہے لیکن ہر سوال کا جواب نہ ہے نہ ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام آپ کو سیدھا راستہ دکھا کر باقی سب کچھ آپ کی مرضی پر چھوڑ دیتا ہیراستہ آپ کو خودہی طے کرنا ہوتا ہے آپ اسے سیدھے قدموں طے کریں یا الٹے یہ آپ پر منحصر ہے۔ایک اچھے باپ کی پہچان صرف مالی مددتک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی اولاد کی زندگی میں مثبت کردار ادا کرتا ہے گڈ ڈیڈ،بیڈ ڈیڈکتاب کے مصنف ہیلین بیتھون HELEN BETHUNE نے اس کتاب میں ایک اچھے باپ کی چند نمایاں خصوصیات یہ ہیں۔

۱: نظم و ضبط سیکھانا۔چھے باپ بچوں کو نرمی اور محبت سے نظم و ضبط سیکھاتے ہیں وہ سختی کی بجائے سمجھ بوجھ سے تربیت کرتے ہیں تاکہ بچوں میں خود ذمیداری کا احساس ہو۔

۲: رہنمائی فراہم کرنا۔اچھا باپ صرف حکم نہیں دیتابلکہ بچوں صحیخ اور غلط کا فرق سمھجاتا ہے وہ ان کے لیے ایک رول ماڈل بنتا ہے تاکہ بچے عملی زندگی میں درست فیصلے کر سکیں۔

۳: مالی شعور دینا۔اچھے باپ بچوں کو پیسے کی اہمیت سیکھاتے ہیں وہ انھیں بچت کرنا ،محنت کرنا،دیانت داری سے کمائی کی تعلیم دیتے ہیں تاکہ وہ معاشی طور پر مضبوط بن سکیں۔

۴:وقت دینا۔اچھے باپ اپنے بچوں کو وقت دیتے ہیں چاہے وہ سکول کا ہوم ورک ہو یا کھیل کا وقت،باپ بچوں کے ساتھ وقت گزار کر ان کا اعتماد بڑھاتے ہیں۔

۵:جزباتی سپورٹ۔ اچھے باپ بچوں کے جزبات سمھجتے ہیں وہ ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اور انہیں احساس دلاتے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں۔

برے باپ کی چند نمایاں خصوصیات یہ ہیں۔

۱:احساس کمتری پیدا کرنا۔بچوں کر ہر وقت ناکام یا بے کار کہناجس سے ان کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے

۲:گالی گلوچ یا تذلیل۔بچوں کو برا بھلا کہنا یا ان کی عزت نفس مجروح کرنا۔

۳:بری عادات کا اثر۔نشہ،جھوٹ،بدکلامی یا دیگر برے کاموں میں مبتلا ہونا،جو بچوں پر منفی اثر ڈالے۔

۴:لاپرواہی۔بچوں کی تعلیم و تربیت یا ضروریات کی پرواہ نہ کرنا۔

۵:بے انصافی۔کسی بچے کو زیادہ اور کسی بچے کو کم اہمیت دینا یا جانبداری کا مظاہرہ کرنا۔

ایک بچے کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں اور والدین کو خیال رکھنا ہوتا ہے کی ہر اعتبار سے اس کی شخصیت کی نشوونما بھر پور اور مکمل ہو لیکن یہ خیال کیسے رکھا جائے یہ جاننا اتنا آسان نہیں زیادہ تر والدین کو بس اتنا پتہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے بچے کا پیٹ بھرنا ہے،اس کا تن ڈھانکنا ہے،اسے سائبان فراہم کرنا ہے،اس کی تعلیم کا انتظام کرنا ہے اور جب تک وہ اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہو جائے اسے زمانے کے سردوگرم سے محفوظ رکھنا ہے اس سے آگے انھیں کچھ پتہ ہوتا،بلکہ شاید اس کا احساس بھی نہیں ہوتا اور بہت سے والدین ان بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی کوتاہی کر جاتے ہیں۔

ڈاکٹر نعمان رفیع

post bar salamurdu

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت ایک کالم نگار ہیں اور بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں، وہ ضلع سیالکوٹ میں بطور میڈیکل سپیشلسٹ کام کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button