اردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

تو بد مزاج تھا تو نے بھی التجا نہیں کی

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

تو بد مزاج تھا تو نے بھی التجا نہیں کی
اور اب فقیر سے تکرار ہے دعا نہیں کی

میں خاندان کی پابندیوں سے واقف تھی
خدا کا شکر ہے اس شخص نے وفا نہیں کی

اذیتیں ہی سہی دل کی چوٹ بھی ہے عزیز
پرانا زخم رفو کر لیا دوا نہیں کی

ہزار بار اجاڑا ہے زندگی نے مجھے
برا ضرور منایا ہے بد دعا نہیں کی

وہ عشق و رزق میں فاقوں پہ آنے والے ہیں
خدا کے نام سے جس جس نے ابتدا نہیں کی

ترے غرور سے بڑھ کر مری انا ہے مجھے
تو پوچھتا ہے محبت کا مجھ سے جا نہیں کی

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button