آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمظفر ڈھاڈری بلوچ

میرا لاشہ پڑا ہے صحرا میں

مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل

میرا لاشہ پڑا ہے صحرا میں
اک تماشہ پڑا ہے صحرا میں

شہر جنگل بناہوا ہے تو کیا
دیکھ صحرا پڑا ہے صحرا میں

دن بدل جائیں گے چلو یارو
وقت اچھا پڑا ہے صحرا میں

عین ممکن ہے سانس باقی ہو
وہ جو الٹا پڑا ہے صحرا میں

کوئی جائے اٹھاکے لائے میاں
عشق سارا پڑا ہے صحرا میں

تیری نفرت کے بھینٹ چڑھ کر آج
کوئی پیارا پڑا ہے صحرا میں

ماں کا دل کیوں نہ ہو اداس بھلا
اس کا بیٹا پڑا ہے صحرا میں

اک عجب خوف ہے مرے گھر میں
جب سے ڈاکا پڑا ہے صحرا میں

ہوں مظفرؔ بلوچ سو میرا
سارا شجرہ پڑا ہے صحرا میں

مظفرؔ ڈھاڈری

post bar salamurdu

مظفر ڈھاڈری

اصل نام مظفر علی بلوچ اور قلمی نام مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ ہے۔ آپ یکم مارچ 1998 کو تحصیل لہڑی، ضلع سبی کے قدیم و سادہ دل گاؤں تریہڑ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی کی عمر تھی جب والد کی ملازمت کے سبب خاندان نے ڈھاڈر، ضلع بولان کا رخ کیا۔ آٹھ دس برس کی عمر کے اس کم سن مسافر نے جب ڈھاڈر کی مٹی کی خوشبو، ہوا کی نرمی اور لوگوں کی محبت دیکھی تو یوں لگا جیسے یہ زمین اس کے وجود کی بُن میں جاگھسی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں آپ نے اپنے نام کے ساتھ ڈھاڈری کا لاحقہ اختیار کیا، جیسے شناخت اور محبت کا ایک حسین امتزاج۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر ایف۔ایس۔سی تک کا زمانہ ڈھاڈر ہی کی درسگاہوں میں بسر کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے بلوچستا یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جہاں سے آپ نے ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور زبان و ادب کے وسیع بحر میں اپنے لیے ایک راستہ متعین کیا۔ شاعری کے مزاج اور فن کی تربیت کے لیے آپ نے کئی تجربہ کار اور معتبر اساتذہ سے فیض حاصل کیا جن میں شاہ نواز راہی، ذوالفقار یوسف، فیاض تبسم نیازی جیسے نام شامل ہیں۔ موجودہ دور میں آپ نامور شاعر حسرت رشید سے باقاعدہ اصلاح لے رہے ہیں اور ان کی شاگردی میں شاعری کے رموز و دقائق کو نہایت شوق اور انہماک سے سیکھ رہے ہیں۔ مظفر ڈھاڈری نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھر کے مشاعروں میں اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔ مختلف ادبی محفلوں، قومی و صوبائی مشاعروں اور ثقافتی تقریبات میں آپ بارہا مدعو کیے جاتے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button