آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمظفر ڈھاڈری بلوچ
اگائیں کیسے یقین آنکھیں
مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
اگائیں کیسے یقین آنکھیں
ہماری بنجر زمین آنکھیں
ہمارے دل کو بناکے صادق
بنائیں رب نے امین آنکھیں
اداسیوں سے بچا کے رکھنا
تم اپنی پیاری حسین آنکھیں
بتاو آخر خفا ہیں کس سے
تمہاری گوشہ نشین آنکھیں
نہ پوچھ کتنی بے چارگی ہے
رگڑ رہی ہیں جبین آنکھیں
ہمارے دل کے مکان کی ہوں
سدا تمہاری مکین آنکھیں
قدم قدم پر اداسیاں تھیں
اجڑ گئیں سو،نگین آنکھیں
کوئی بھی میسج نہ رائیگاں ہو
کریں جو اک بار سین آنکھیں
خزاں کی زردی میں بھی مظفرؔ
دکھائیں سپنے رنگین آنکھیں
مظفرؔ ڈھاڈری








