آپ کا سلاماردو نظمرشید حسرتشعر و شاعری

مہنگائی کا اِک آیا ہے طُوفان یقیناً

رشید حسرت کی ایک اردو نظم

مہنگائی کا اِک آیا ہے طُوفان یقیناً
توڑے ہیں حُکمرانوں نے پیمان یقیناً

مزدُور کو پابند کِیا گھر پہ بِٹھایا
دو وقت کی اب اِس کو نہیں نان یقیناً

اِنسان کی توہین کبھی اِتنی نہیں تھی
روٹی ھے گِراں خُون ھے ارزان یقیناً

جِس حُکم پہ دھقان کی مِحنت کا صِلہ ضبط
تحقِیر کے لائق ہے وہ فرمان یقیناً

جِس گاؤں میں افلاس میں دِن ھم نے گُزارے
اب ہوں گے وہاں موت کے سامان یقیناً

ہر ظُلم پہ جب بند رکھے آنکھ قیادت
تب تخت کے تختے کا ہے اِمکان یقیناً

جِس شخص نے تنویر مُجھے عِلم کی بخشی
اُس کا ہے بڑا مُجھ پہ یہ احسان یقیناً

جو دل کے کھرے اُن پہ کڑا وقت بھلے ہو
منزل بھی مگر اُن کی ہے آسان یقیناً

اے دیس کی مٹی تُجھے شاداب رکھیں گے
دہقان بڑھائیں گے تِری شان یقیناً

سچ پُوچِھیئے رشِیدؔ ہمِی جُھوٹ بھرے ہیں
دینی ہے خُدا ہی کو ہمیں جان یقیناً

رشید حسرت

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button