آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمز

خاموش موت کے پیامبر

ایک اردو تحریر از ابو خالد قاسمی

یہ اسی کی دہائی میں افغانستان کی ایک برفیلی، گہری اور خوف سے لبریز خاموش رات تھی۔ کنڑ کی سنگلاخ وادیوں پر برف کی سفید چادر تنی ہوئی تھی، آسمان پر بادل ایسے جھکے ہوئے تھے گویا زمین پر ہونے والے کسی خونی راز کو چھپانا چاہتے ہوں۔ اسی رات سوویت یونین کی سب سے خونخوار اور ایلیٹ فورس — اسپیٹناز (Spetsnaz) — کو ایک غیر معمولی مشن سونپا گیا۔
مشن سادہ مگر سفاک تھا
افغان مجاہدین کی شہ رگ، یعنی ان کی سپلائی لائن کو کاٹ دینا، انہیں بے ضرر کرنا، اور پھر ایک ایک کر کے چن چن کر ختم کر دینا۔
روسی کمانڈوز جدید ترین اسلحے، نائٹ وژن آلات، اور دنیا کی سخت ترین تربیت کے زعم میں پہاڑی درّوں پر پیراشوٹ سے اتر رہے تھے۔ زمین پر پہنچ کر وہ اپنی پوزیشنیں سنبھال ہی رہے تھے کہ اچانک…
اندھیرے میں کچھ سائے نمودار ہوئے۔ یہ سائے عام نہیں تھے۔
نہ قدموں کی چاپ، نہ پتھر کنکروں کے لڑھکنے کی آواز۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ زمین پر نہیں بلکہ ہوا میں معلق حرکت کر رہے ہوں۔
روسی گوریلے ان پراسرار سایوں سے قطعی بے خبر، اپنے کمانڈر کے اگلے احکامات کے منتظر تھے۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ انتظار ان کی موت پر ختم ہوگا — اور یہ موت افغان مجاہدین کی طرف سے نہیں آئے گی۔
سیاہ رات کے سینے میں چھپے یہ سائے خاموشی سے روسی کمانڈوز کے حصار میں داخل ہو چکے تھے۔ پوزیشنیں سنبھالی جا چکی تھیں۔ فاصلہ چند قدموں کا رہ گیا تھا۔
اور پھر… برفانی رات کا سکوت گولیوں کی گھن گرج سے چاک ہو گیا۔
وہ فورس جسے دنیا کی سب سے بے رحم اور جان لیوا فورس سمجھا جاتا تھا، جس کی ٹریننگ مکمل کرتے کرتے صرف پانچ سے دس فیصد جوان ہی زندہ رہ پاتے تھے، وہی اسپیٹناز ان پہاڑوں سے اترنے والے اَن دیکھے شکاریوں کا مقابلہ نہ کر سکی۔ یہ شب خون اتنا اچانک، اتنا شدید اور اتنا مہلک تھا کہ روسیوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔
جب اگلی صبح سورج نے برف سے ڈھکی وادی پر روشنی ڈالی تو وہاں موت کی ایسی خاموشی تھی جو چیخ چیخ کر کسی خوفناک حقیقت کا اعلان کر رہی تھی۔ روسی جنرلوں کو بھاری جانی نقصان کا سامنا تھا۔ لیکن اصل سوال یہ تھا
یہ سب کس نے کیا؟ کس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا؟
اس سوال کا جواب ایک روسی میجر کے سینے میں پیوست ایک خنجر سے ملا۔
یہ کوئی عام خنجر نہیں تھا۔
یہ روایتی فولادی خنجر پاکستان آرمی کی اسپیشل سروسز گروپ (SSG) کے کمانڈوز کے لیے مخصوص تھا۔
یہ اس بات کا اعلان تھا کہ یہاں مقابلہ صرف گولیوں کا نہیں، بلکہ دو بدو، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہوا ہے۔
یہیں سے، تربیلا کے قریب چراٹ کے گھنے جنگلوں میں تیار ہونے والے ان سفاک، خاموش اور بے رحم جنگجوؤں کا نام پڑا: بلیک اسٹورکس (Black Storks)
اس واقعے کے بعد روسی فوج ایک عجیب اور ناقابلِ بیان خوف میں مبتلا ہو گئی۔ جہاں کہیں میدان گرم ہوتا، روسی سپاہی وائرلیس پر گھبراہٹ میں چیختے سنائی دیتے:
“کالے بگلے آ گئے ہیں…!”
روسی پائلٹوں نے اپنی ڈائریوں میں لکھا کہ پاکستانی کمانڈوز سیاہ وردی میں پیراشوٹ سے ایسے اترتے تھے جیسے شکاری پرندے اپنے شکار پر جھپٹتے ہیں۔ بگلا بھی اسی طرح خاموشی سے، بجلی کی سی تیزی کے ساتھ وار کرتا ہے — اور وار کے بعد صرف موت باقی رہ جاتی ہے۔ ایس ایس جی — فولاد میں ڈھالے گئے انسان
ایس ایس جی کی بات چلی ہے تو سیلانی یہ بھی بتاتا چلے کہ اس ہیبت ناک دنیا کا حصہ بننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
یہاں بھرتی براہِ راست نہیں ہوتی۔
پاک فوج کے وہ جوان اور افسر جو واقعی جِگرا رکھتے ہوں، وہی رضاکارانہ طور پر خود کو اس آگ میں جھونکتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں کئی ہفتوں پر مشتمل اعصاب شکن جسمانی اور ذہنی ٹیسٹ ہوتے ہیں، جن میں عموماً اسی فیصد سے زائد امیدوار چھٹ جاتے ہیں۔ جو باقی بچتے ہیں، انہیں چراٹ کے پہاڑوں میں ایس ایس جی کورس کے لیے بھیج دیا جاتا ہے — اور یہیں سے اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
بارہ گھنٹوں میں 58 کلومیٹر کی دوڑ، اور تیس سے چالیس منٹ میں 8 کلومیٹر بھاری بھرکم سامان کے ساتھ طے کرنا یہاں ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔
تربیت کا سب سے خوفناک اور دلچسپ مرحلہ سروائیول ٹریننگ ہے۔ کمانڈو کو دشمن کے علاقے میں بغیر خوراک اور پانی کے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یہاں زندہ رہنے کے لیے انہیں وہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے جس کا ایک عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔
پیاس مٹانے کے لیے جنگلی پودوں اور جڑی بوٹیوں کی پہچان، مینڈک اور سانپ پکڑ کر کھانا، جانوروں کا خون پی کر توانائی بحال رکھنا — سب کچھ سکھایا جاتا ہے، تاکہ مشن میں بھوک کبھی رکاوٹ نہ بنے۔
اسی دوران انہیں جدید ترین اسلحے میں اس حد تک مہارت دی جاتی ہے کہ وہ اندھیرے میں محض آواز کی دستک پر دشمن کو نشانہ بنا سکیں۔
اسنائپر ہو یا ہینڈ گن — ہر وار حتمی ہوتا ہے۔
قید، تشدد اور نہ ٹوٹنے والا عزم
ایس ایس جی کی تربیت کا سب سے خفیہ اور مشکل ترین مرحلہ
Resistance to Interrogation
یعنی تشدد سہنے کی صلاحیت کی تربیت ہے۔
اس مرحلے میں جوانوں کو فرضی طور پر دشمن کی قید میں دیا جاتا ہے۔
بھوک، نیند سے محرومی، جسمانی و ذہنی اذیت — سب کچھ آزمایا جاتا ہے۔
مقصد صرف ایک: اگر کبھی دشمن کے ہاتھ لگ جائیں تو ہڈیاں ٹوٹ جائیں، لیکن عزم نہ ٹوٹے۔ یہی ان کی پہچان ہے۔ یہی ان کا تعارف ہے۔ سیلانی دیکھتا چلا گیا… اور تاریخ نے لکھ لیا کہ جب کبھی وائرلیس پر چیخ سنائی دے:
“کالے بگلے آ گئے ہیں”
تو سمجھ لو — خاموش موت اتر چکی ہے۔

ابو خالد

post bar salamurdu

ابو خالد

نام ابو خالد، ولدیت ناظر الدین ۔ آسام ہندوستان سے تعلق ہے ۔ تعلیم: مادر علمی دار العلوم دیوبند سے حاصل کیا ۔ عمر ۔ ٢٥ سال ۔ احقر کے قلم سے بحمد اللہ قریب دس کتابیں منظر عام پر آئی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button